Thursday, 30 August 2018

سائیکل اور تیل کا دیا

"سائیکل اور تیل کا دیا "
ہماری سوچ  کی پستی کا یہ عالم ہے کہ عمران خان کے وزیراعظم بنتے ہی ، ہر شہری محتسب بن گیا ہے ۔ وہ جن کی محلے کا ممبر نہیں سنتا ، وہ بھی وزیراعظم کی مشاورت پر تلے بیٹھے ہیں ۔ سب پوچھتے ہیں کہ عمران خان نے جو کہا ہے وہ ابھی تک پورا کیوں نہیں ہوا ۔ پورے دو ہفتے گذر گئے اور کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی ۔ اسکی عیاشیوں پر آگ بگولا ہو رہے ہیں کہ گھر سے وزیراعظم ہاوس ہیلی کاپٹر کی کیا ضرورت ہے ۔ دولاکھ روپے کا پٹرول کھا جاتا ہے یہ اڑنے والا کھلونا ۔  اگر اتنے سفر میں ہیلی کاپٹر اتنا پٹرول کھا جاتا ہے تو پی آئی اے کی تباہی درست ہے ۔ کرائے سے کہیں زیادہ تو جہاز پٹرول پی جایا کرتے تھے ۔مجھے تو پتہ نہیں کہ ہیلی کاپٹر کا فیول ٹینک کتنا بڑا ہوتا ہے ، جس میں دولاکھ کا فیول ڈالا جاتا ہے ۔
یہ تھوڑا سا سفر تو سائیکل پر  بھی ممکن تھا ، چلو سائیکل نہ سہی موٹر سائیکل بھی لیا جا سکتا تھا ۔ نئی مثال بھی قائم ہو جاتی اور قطرے قطرے سے دریا بنتا ہے ، قرضے بھی اتر جاتے ۔ گھر میں بجلی کے قمقمے ، وزیراعظم ہاوس میں بجلی کے بڑے بڑے بلب ، قوم کا پیسہ یوں لٹتا رہا تو ترقی کے خواب کیسے پورے ہونگے ۔ مٹی کے تیل کی لالٹین یا دئیے کی روشنی میں بھی کام چل سکتا ہے ۔ جب قوم اتنی باخبر ہوجائے تو اسے یہ مطالبہ کرنے میں دیر نہیں لگنی چاہئے کہ جس جس نے ملک کا نقصان کیا ہے ، اسکی سزا " چین " جیسی ہونی چاہئیے ۔ مگر یہ کوئی نہیں بولتا ۔
یوں لگتا ہے کہ قوم کی ابھی ایک آنکھ کھلی ہے ، جس سے عمران خان زیادہ واضع نظر آتا ہے ، دوسری آنکھ ابھی کھلی ہی نہیں کہ جانے والے حکمران بھی نظر آنے لگیں ۔
عمران خان جتنا بھی کم عقل ہو ، یہ ثابت ہے کہ میرے جیسے دانشوروں سے زیادہ فہم رکھتا ہوگا ، جو اتنے سارے بادشاہوں کو پچھاڑ کر کرسی پہ آ بیٹھا ۔ میرا اور آپکا حق ہے کہ تنقید کریں ، میرا اور آپکا فرض بھی ہے کہ بہتری نظر آئے تو اس پر شاباش بھی کہیں ۔ اسے پانچ سال کا وقت دیا گیا ہے ، چلو ایک سال میں وہ ثابت کردے کہ اس نے یہودیت کو پروان چڑھایا ہے ، ملک میں جنسی آزادی کو تقویت دی ہے ، قوم کو اسلام سے منحرف کرنے کی کوشش کی ہے ، ملک کو لوٹنے کا کام شروع کر دیا ہے ، عام شہری کے حقوق پامال ہونے لگے ہیں ۔ تو پوری جرات سے اسکا راستہ روکا جائے ۔ بلاوجہ کا پروپیگنڈہ ملک کے مفاد میں نہیں ہے ۔
آزاد ھاشمی
٣٠ اگست ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment