" ہادی کائناتؐ کی آمد اور شکر "
اللہ سبحانہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ میں فرمایا ہے ۔
" ہم نے تمہارے درمیان اپنا رسول بھیجا ،جو ہماری کتاب کے تلاوت کرتا ہے اور پاکیزہ بناتا ہے ،اور تمہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے ۔ اور تمہیں وہ باتیں بتاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے ۔اسلئے تم میرا ذکر کرو ، میں بھی تمہیں یاد کروں گا ۔ اور میرا شکر ادا کرو ، میری ناشکری نہ کرو "
عرب کا خطہ جس جہالت اور گمراہی کے اندھیرے میں تھا ، وہ اپنے ارد گرد کی دنیا سے یکتا اور بیمثل تھا ۔ دنیا میں بڑے جاہ و جلال سے چلنے والی کئی ایک سلطنتیں تھیں ۔ جہاں خوشحالی بھی تھی اور دنیاوی ترقی بھی ۔ عرب میں نہ خوشحالی تھی نہ دنیاوی ترقی ۔ بت پرستی ہی نہیں ، وہ تمام مذاہب اور عقائد بھی تھے جو دنیا کے کسی بھی خطے میں رائج تھے ۔ مگر جہالت کا عالم یہ تھا کہ اپنی بچیوں کو زندہ زمین میں گاڑھ دیتے تھے ۔ عیاشی اور ہوس پرستی بھی تھی ، کینہ ، بغض اور عناد میں بھی یکتا تھے ۔ کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی تکبر کے عروج پر تھے ۔ کھانے پینے کی اشیاء تک قرب و جوار سے لا کر زندگی گذارتے تھے ۔ اللہ نے اپنے حبیبؐ کو اس خطے میں بھیجا ، جس نے انکو قران کی تعلیم سے بہرہ مند کیا ، علم کی روشنی دی ، انکے اندر کی غلاظتیں صاف کیں ۔ اور پھر اسی ہدایت اور روشنی کو پھیلانے والے کا آغاز بھی اسی خطے سے کیا ۔ آج یہ خطہ مال و زر میں ، عزت و توقیر میں اور دیگر وسائل ضرورت میں ایک اعلیٰ مقام پر کھڑے ہیں ۔ اسی توسط سے آج کئی مسلمان حکومتیں بھی عروج پر ہیں ۔ ہم سب اگر کسی عزت کے مستحق ہیں تو اسی دین ، انہی رحمتوں کیوجہ سے جو اللہ نے اپنے حبیبؐ کے توسط سے ہم پہ کیں ۔ اب اس احسان عظیم کے بدلے ، حکم ربی ہے کہ ہم اللہ پاک کا ذکر اپنا معمول بنا لیں ۔ اور اللہ کا شکر ادا کرتے رہیں کہ ہمیں یہ علم و آگہی نصیب ہوئی ۔ شکر ادا کرنے کا صرف یہ مطلب نہیں کہ ہم زبان سے کہہ دیں " اللہ تیرا شکر ہے " بلکہ اللہ کا شکر یہ ہے کہ اس عظیم احسان سے بخوبی استفادہ کرتے ہوئے اللہ کے سامنے سر بسجود رہیں ۔ ہرہر لمحے اللہ کی نعمتوں کا ذکر کرتے رہیں ۔ یہ یاد رہے کہ ہمیں جو بھی ملا ، اللہ کے نبی کی ہدایت کے باعث ملا ۔
آزاد ھاشمی
٢٦ اگست ٢٠١٨
Monday, 27 August 2018
ہادئی کائنات کی آمد اور شکر
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment