Friday, 31 August 2018

پاکستان میں صدر کیوں ہوتا ہے؟

" پاکستان میں صدر کیوں ہوتا ہے؟  "
میرے جیسا عام عقل و فہم والا کیا جانے کہ پاکستان میں وزیر اعظم بھی ہے ، صدر بھی ۔ وزیراعظم کی کچھ کچھ سمجھ آتی ہے کہ جسے عوام منتخب کر کے لاتی ہے کہ امور سلطنت چلائے  گا ۔ یہ اب عوام کی مرضی کہ وہ کسے مسیحا سمجھ لے ۔ سنا ہے کہ کوئی کتاب لکھی ہوئی ہے ، جسے لکھنے والوں میں شاطر اور چالاک بھی شامل ہوئے تھے ، جاگیر دار بھی بیٹھے تھے ، سیاسی جانشین بھی ساتھ تھے ، کچھ ان پڑھ بھی تھے جو ہاں ہاں کرتے رہے ، کچھ غنڈے بھی تھے ۔ ان سب نے ایک کتاب لکھی تھی ، اسی کتاب کے مطابق وزیراعظم بنتا ہے ، اسکے مطابق صدر بھی بنایا جاتا ہے ۔ صدر کو عوام نہیں چنتی بلکہ یہی اسمبلیوں میں بیٹھنے والے مل جل کر چن لیتے ہیں ۔ یہ ایک گوشت پوست کا کوئی بھی شخص ہو سکتا ہے ۔ جو زندہ ہو ،کبھی کبھار بول بھی لیا کرے،  دو چار صدر ایسے بھی آئے تھے ،  انہیں لایا نہیں گیا تھا بلکہ خود ہی آ گئے تھے ۔  وہ وزیراعظم سے گھر کے ذاتی کام بھی کروا لیتے تھے مگر وہ دو چار ہی تھے ۔ جو اس کتاب کے مطابق آئے وہ بیچارے ہی تھے ۔ اس کتاب کے مطابق یہ  صدر نام والا آدمی ملک کا سربراہ ہوتا ہے اور ہر فیصلے پر آخری دستخط اسی کے ہوتے ہیں ۔ اسے فیصلے کرنے کا عملی اختیار بالکل نہیں ہوتا ۔ ہاں کسی قیدی کی موت کی سزا کو روک سکتا ہے اگر موڈ اچھا ہو ۔ اسے بہت بڑا گھر ملا ہوتا ، لاکھوں روپے غریبوں سے چھین کر اسے تنخواہ دی جاتی ہے ۔ ملک کے چند قومی دنوں پر سلام کرنے کیلئے قوم کے سامنے لایا جاتا ہے ۔ بیچارہ گھر کے اس بوڑھے کیطرح ہوتا ہے جس سے پوتے پوتیاں کھیلتے ہیں ، بہووئیں کتراتی ہیں اور بیگم ڈانٹتی رہتی  ہے ۔ جس کا کام کھانسنا اور کڑہتے رہنا ہوتا ہے ۔ جسکی نہ کوئی سنتا ہے نہ کوئی مانتا ہے مگر گھر کا سربراہ کہلاتا ہے ۔
کیا بہتر نہیں کہ وزیراعظم کو صدر کا نام دیکر منتخب کر لیا کریں ۔ یہ صدر کے کروڑوں روپے بچ جایا کریں گے اور کسی بوڑھے سے مذاق بھی بند ہو جائے کہ لکھی ہوئی کتاب کی ایک سطر بدلنے سے ملک کے ڈانوا ڈول ہونے کا اندیشہ ہے ۔ عوام ہوں شکایت کا حق تو نہیں ہے بس ایسے ہی پوچھ رہا ہوں ۔
آزاد ھاشمی
٣٠ اگست ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment