"خباب بن ارت رضی ﷲ عنہ"
صدیوں پہ محیط عرب کے خطہ کی جہالت میں جب طلوع اسلام کی روشنی پھیلنے کا آغاز ہوا تو اس کا ادراک ہونا ، ایک عام ذہن کیلئے قطعی نا ممکن تھا ۔ ماسوائے انکے جن کو اللہ نے اپنی خاص رحمت سے نوازا کہ وہ اللہ کے پیغامبر کی آواز پر لبیک کہہ دیں ۔ ان میں خباب ابن ارت کا چھٹا نمبر تھا، اسی لیے "سادس الاسلام" کہلاتے تھے۔ ابو عبد اللہ کنیت،نسب میں خباب بن ارت بن جندلہ ابن سعد بن حزیمہ بن کعب بن سعد بن زید مناۃ بن تمیم۔
زمانۂ جاہلیت میں ان کے والد ارتّ بغداد کے نواحی شہر کسکر میں تھے کہ بنو ربیعہ کے لوگوں نے کسی غارت گری میں انھیں گرفتار کیا اور مکہ لے آئے۔ ارتّ کو سباع بن عبدالعزی خزاعی اور حضرت خباب کو اس کی بہن ام انمار خزاعیہ نے غلاموں کے بازار سے خریدا۔ یہ سباع وہی ہے جس نے جنگ احد میں حضرت حمزہ بن عبدالمطلب کو دعوت مبارزت دی تھی اور مارا گیا تھا۔
حضرت خباب زمانۂ جاہلیت میں تلوار سازی کیا کرتے تھے،انھیں ام انمار نے مکہ کے ایک لوہار کی شاگردی میں دیا پھراس کام کے لیے ایک دکان لے دی۔ حضرت خباب’ السابقون الاولون‘ میں سے تھے، اپنے لڑکپن ہی میں وہ عربوں کی جہالت و ضلالت سے بیزار تھے یہی وجہ ہے کہ ا نھوں نے بعثت محمدی کے بالکل ابتدائی زمانے میں اسلام قبول کیا۔ .خبابؓ نے اسوقت اسلام قبول کیا جب اسلام کا اظہار تعزیرات مکہ میں ایسا شدید جرم تھا،جس کی سزا میں مال ودولت،ننگ وناموس اور ہر چیز سے ہاتھ دھونا پڑتا تھا؛لیکن خبابؓ نے اس کی مطلق پر واہ نہ کی اور ببانگ دہل اپنے اسلام کا اظہار کیا- عرب کے اس خطے میں اونٹ ، گھوڑے اور ہر جانور کا تو خیال رکھا جاتا تھا مگر غلام کی کوئی زندگی نہیں تھی ۔ غلام پر ہونے والے جور و ستم پر انکے حق میں بولنے یا سوچنے کا کوئی رواج نہیں تھا ۔ اسلام لانے کی پاداش میں مشرکین مکہ نے حضرت خباب پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیے۔وہ ان کا بدن ننگا کر کے تپتی زمین اور آگ کی طرح دہکتے ہوئے پتھروں پر لٹا دیتے۔ ان کا سر مروڑ دیتے اور منہ کے بل گھسیٹتے ، وہ ہتھیلیوں سے اپنا چہرہ بچاتے لیکن مشرکوں کی ایک نہ مانتے،یہی کہتے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اﷲ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔دین حق لے کر آئے ہیں، تاکہ ہمیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لے جائیں۔ حضرت خباب نے جنگ بدر اور تمام معرکوں میں حصہ لیا۔جنگ احد میں ان کی آنکھوں کے سامنے سباع بن عبدالعزی جہنم واصل ہواجو ان کی مالکن ام انمار کا بھائی تھا۔
کہا جاتا ہے ،کوفہ کی پہلی اینٹ حضرت خباب بن ارت اور حضرت عبداﷲ بن مسعود نے لگائی۔
ایک روایت کے مطابق انھوں نے جنگ صِفِین اور جنگ نہروان میں حضرت علی کا ساتھ دیا ۔ خبابؓ کی وفات پر
سیدنا علی نے ان کے لیے دعا کی،اﷲ خباب پر رحم کرے،انھوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا، خوش دلی سے ہجرت کی ، جہاد کرتے ہوئے زندگی بسر کی اور کئی جسمانی تکلیفیں اٹھائیں۔
آزاد ھاشمی
٢٩ اگست ٢٠١٨
Thursday, 30 August 2018
خباب بن ارتؓ
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment