" اسوہ حسنہ کی شان"
فتح مکہ کے بعد
رسول پاکؐ جب تک مکہ میں رہے ، کسی گھر میں مقیم نہیں ہوئے اور حجون کے مقام پر اپنے خیمے میں سکونت پذیر رہے۔ آپؐ کے مدینہ ہجرت کے بعد سے آپ کے آبائی گھر پر عقیل نامی ایک مکہ کے باسی نے رہائش اختیار کر رکھی تھی ، یہ رہائش آپؐ کی اجازت سے نہیں تھی بلکہ یہ کہا جا سکتا ہے وہ اس گھر پر قابض تھا ۔ آپؐ فاتح تھے اور گھر کے حقیقی مالک بھی ، مگر آپؐ نے اپنے گھر پر نہ حق ملکیت کا اصرار کیا اور نہ ہی عقیل کو باور کرایا ۔ جب آپؐ سے درخواست کی جاتی کہ اپنے گھر میں تشریف لے جائیں تو آپؐ فرماتے
"کیا عقیل نے ہمارے لئے کوئی گھر چھوڑا ہے؟"
دنیا کی پوری تاریخ میں ایسا حسن خلق نہ کبھی دیکھا گیا کہ ایک فاتح اپنے مفتوحہ علاقے میں بھی ، اپنے ہی گھر سے کسی سکونت پذیر کو بیدخل نہ کرے ۔ اور کوئی بستا ہوا خاندان گھر چھوڑ کر خیمے میں رہنے پہ مجبور ہو جائے ۔
اللہ کے محبوبؐ کے ہر عمل میں حکمت کے راز پوشیدہ تھے ۔ امت کیلئے سبق ہیں ۔ اس میں ایک دوسری مصلحت یہ بھی تھی ۔
مروی ہے کہ انصار ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے کہ
"کیا رسول اللہ(ص) کو اپنی قرابت داری اور خاندان کی طرف رغبت نے مکہ کی طرف مائل تو نہیں کیا؟ "
انصار کو خوف تھا کہ کہیں آپؐ اپنے آبائی گھر میں سکونت اختیار نہ کر لیں ۔ تو آپؐ نے فرمایا:
" اے جماعت انصار! بے شک میں خدا کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ میں نے خدا کی طرف اور تمہاری جانب ہجرت کی ہے میری زندگی تمہارے ساتھ ہے اور میری موت تمہارے ساتھ ہے"۔
آزاد ھاشمی
٢٦ اگست ٢٠١٨
Tuesday, 28 August 2018
اسوہ حسنہ کی شان
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment