" طنز اور عیب جوئی "
جب ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ اللہ کی وحدانیت ، اسکے بھیجے ہوئے رسولؐ کی رسالت اور اسکی نازل کردہ کتاب پر ایمان لائے ۔ تو اسکا مطلب صرف اقرار تک محدود نہیں رہ جاتا ، اللہ کے احکامات کو ماننا ، اسکا کسی کو شریک نہ کرنا اور اسکی قدرت پر یقین رکھنا ہوتا ہے ۔ اس کی پاک ذات نے جو کہا اس کے مطابق چلنا فرض ہو جاتا ہے ۔ اسکے بھیجے ہوئے رسولؐ اطاعت کرنا کہ جو رسولؐ نے کہا " کیوں اور کیسے " کا سوال کئے بغیر مان لیا جائے ۔ اسکی نازل کردہ کتاب پر ایمان لانے کا مطلب ہے کہ اس میں جو لکھا ہے ، وہ قانون ، دستور اور نظام سے بہتر مان لینا ، اور اپنے ہر عمل کو اسی کے تابع کرنا ، ایمان ہے ۔ حکم ربی ہے ۔
وَیْلٌ لِّکُلِّ ہُمَزَۃٍ لُّمَزَۃٍ۔﴿الھمزۃ:۱﴾
‘‘تباہی ہے ہر اس شخص کے لیے جو لوگوں پر طنز اور برائیوں کا خوگر ہے۔’‘
طنز اور عیب جوئی کرنا ، جو آج ہمارے معاشرے کا معمول بن گیا ہے ، صرف خرابی نہیں بلکہ بربادی ہے۔ ایمان کا تقاضا ہے کہ حتی المقدور اس سے باز رہا جائے ۔ ورنہ اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کی تمام نیکیاں برباد کر دے گا ۔
اللہ کے رسولؐ نے فرمایا ۔
‘‘ تم مسلمانوں کو ایذا نہ دو، ان پر طنز نہ کرو اور ان کے چھپے ہوئے عیبوں کی ٹوہ میں نہ لگے رہو۔جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے عیب کی تلاش میں رہے گا اللہ تعالیٰ اس کا بھانڈا پھوڑ دے گا، اللہ تعالیٰ جس کی برائیوں کا پردہ چاک کرتا ہے، اسے بے عزت اور رسوا کرتا ہے، چاہے وہ اپنے گھر کے اندر ﴿خلوت میں﴾ برائی کر رہا ہو۔’‘
سورہ الحجرات میں حکم ہوا۔
‘‘اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو، ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنابہت بری بات ہے۔جو لوگ اس روش سے بازنہ آجائیں، وہ ظالم ہیں۔’‘
ایک مسلمان ہونے کے ناطے ، اگر ہم اپنا اپنا احتساب کریں تو اندازہ ہوگا کہ آج ہم کہاں کھڑے ہیں ۔ کیا ہم نے اپنے رب کی مانی ؟ کیا ہم نے رسولؐ کی اطاعت کی ؟ کیا ہم نے قرآن کی تعلیم پر عمل کیا ؟
آزاد ھاشمی
٢ ستمبر ٢٠١٨
Sunday, 2 September 2018
طنز اور عیب جوئی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment