" حرام اور حلال "
اللہ سبحانہ تعالیٰ نے خنزیر ، شراب ، شرک ، جوا ، زنا ، مردہ جانور ، ایسے جانور جن پر اللہ کا نام لئے بغیر ذبح کیا ہو ، سود ، ناحق قتل وغیرہ پر حرام ہونے کی حد قائم کر دی ۔ جسے اللہ نے حرام کیا ، وہ حرام ہے اور جسے حلال کیا وہ حلال ہے ۔ اللہ نے جس عمل سے منع کیا اور ہم نے نہیں مانا ، یہ اللہ کے حکم سے سرکشی ہے ، کفر ہے اور انکار ہے ۔ اللہ کے حکم سے سرکشی کرنے والا کافر اور انکار کرنے والا منکر ہے ۔ اس پیمانے پر جائزہ لیا جائے تو ہم ایمان کی شرائط پوری کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں ۔ اس میں علماء کا بہت عمل دخل ہے کہ انہوں نے صرف ان موضوعات پر مشق جاری رکھی ، جو فروعی تھے ۔ اصولی موضوعات سے
بے خبر رکھا ۔ خنزیر کو ایسا حرام قرار دیا کہ اسکا نام لینے سے زبان کو ناپاک سمجھتے ہیں ، جس جگہ خنزیر پکایا جائے اس جگہ کو اور اس برتن کو ناپاک سمجھتے ہیں ۔ شراب ، جوا اور زنا ، معاشرے میں عام سی بات بن کر رہ گئی ۔ جبکہ یہ معاشرتی گناہ تھے اور ان گناہوں نے معاشرہ بگاڑ کر رکھ دیا ۔ شرابی ، زانی اور جواری ان گناہوں پر شرمندگی کی بجائے اسے شان سمجھتے ہیں ۔ دستور میں بہت سارے معاملات زیر بحث لائے جاتے ہیں مگر قانون سازوں نے نہ ان پر کوئی سخت قانون سازی کا بل پیش کیا اور نہ کسی نے اس پر تحریک چلائی ۔ ہم ناحق قتل کو بسا اوقات جہاد کا نام دے لیتے ہیں ۔ اللہ نے سود کو اپنے اور اپنے رسولؐ کے ساتھ کھلی جنگ قرار دیا ، ہماری معیشت سود پر ہے ۔ کون مسلمان ہے جو کسی نہ کسی طرح سود کی لعنت سے منسلک نہیں ؟
اللہ نے واضع طور پر بتا دیا کہ یہود و نصاریٰ اور سارے کافر آپس میں دوست ہیں اور تمہارے دشمن ہیں ، ہم نے اس پر یقین نہیں کیا ؟ اور کفار سے گہرے رشتے استوار کئے ۔ یہ کھلا کھلا اللہ کی اطاعت سے انکار نہیں تو اسے کیا نام دیا جائے گا ۔ شرک ایسا گناہ ، جس کی نہ اس دنیا میں معافی اور نہ آخرت میں ۔ ہم کتنے ایسے افعال کرتے ہیں جو شرک کے زمرے میں آتے ہیں ؟ ہمارا اپنا ایک نظام تھا ، ایک دستور تھا ، اپنا فلسفہ تھا ، اپنے قانون اور قاعدے تھے ۔ ہم نے سب چھوڑ رکھے ہیں ۔ یہودی کا نظام معیشت ، عیسائیت کا نظام تعلیم اور قانون ، یہودی کا نظام حکومت ، کون سوچتا ہے کہ حلال کیا ہے اور حرام کیا ۔ اللہ اور اسکے رسولؐ کی ماننا حلال اور نہ ماننا حرام ہے ۔
کیا ہم اسطرف سوچیں گے ؟ یا یونہی فروعات میں پڑے رہیں گے ۔
آزاد ھاشمی
٦ ستمبر ٢٠١٨
Thursday, 6 September 2018
حرام اور حلال
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment