" امام حسینؑ کی امامت "
اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اسلامی سال کا اختتام ایک عظیم شہادت سے فرمایا اور مسلمانوں پر فرض کر دیا کہ وہ اس سنت کو ہر سال اگر استطاعت رکھتے ہیں تو ایک بار دہرائیں ۔
اسی اسلامی سال کا آغاز بہتر ٧٢ عظیم تر شہادتوں سے ہوا ، جسے کئی مسلمان ، مسالک کی بحث میں بھلانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ۔
اور کچھ ایمان والے شہید کربلا کی امامت کو ایمان کہتے ہیں اور اس امامت کی تقلید اعلان کرتے ہیں ۔
سلام ہے ایسے مسلمانوں پر ۔
حسینؑ ابن علیؑ کی امامت دین کے ابلاغ تک محدود نہیں تھی ، دین کے بچاو تک ہے ۔ اسماعیلؑ اور ابراہیمؑ کی قربانی تمثیل میں بہا ہوا خون تھا کہ ابراہیمؑ کو انبیاء میں بلند مقام ملا ، اور امامت ملی ۔ حسینؑ کا خون عملی طور پر کربلا کی زمین پر بہا ، اور امامت کا وہ درجہ ملا جو کسی دوسرے کو نصیب نہیں ۔
حسینؑ کی امامت کیا ہے؟ حسینؑ کی تعلیم کیا ہے؟ حسینؑ کا پیغام کیا ہے؟ یہ ہے وہ اصل فکر جس پر غور کرنے ، عمل کرنے اور یاد رکھنے سے اس امامت کے مقلد ہونے کا حق ادا ہوتا ہے ۔
مذہب کا لبادہ اوڑھے ، اقتدار کا حریص شخص ، اپنے کھیل تماشے کی عادت کے ساتھ ملوکیت کو فروغ دے کر ، اسلام کی تعلیم کو رخ موڑنا چاہتا تھا ۔ طاقت بھی رکھتا تھا ، حرص بھی اسکی گھٹی میں تھی ، کینہ اسکے خون میں تھا اور اسی کی روش کے پیرہن میں ایک فوج اسکے ساتھ تھی ۔ اتنی طاقت نہ کسی دوسرے کے پاس تھی اور نہ کوئی ایسا تھا کہ اسکے سامنے کھڑا ہو سکے ۔ اسوقت امامت کا جو حق حسینؑ ابن علیؑ نے ادا کیا ، وہ حسینؑ ہی کی شان ہے ۔ پھر حسینؑ نے امامت کا حق اسطرح ادا کیا ۔
ایسی نماز پڑھی کہ قیامت تک نماز کو قیام مل گیا ۔
ایسا سجدہ کیا کہ سجدوں کا تقدس محفوظ ہوگیا ۔
امام نے بتا دیا کہ اگر کوئی اللہ کے دین سے ہٹ کر اپنی بادشاہت کی بنیاد رکھنا چاہے ، تو اسے روکنے کیلئے چھ ماہ کے معصوم کا خون بھی دینا پڑے تو دریغ مت کرو ۔ اپنے خون کے رشتے ، جانثار ساتھی اور اپنی جان بھی نچھاور کرنی پڑے تو اللہ کی رضا پر قربان کر دو ۔ خنجر گردن پر ہو تو بھی
"سبحان ربی العلیٰ "
کہنا مت بھولو ۔ یہ تھی انوکھی تبلیغ اور بے مثل امامت جو امام حسینؑ نے کی ۔
اے امام حسین ؑ کی امامت میں کھڑے ہونے والو !
کیا امام کی تعلیم پر پہرہ دے رہے ہو؟ کیا امام کی رضا کی تلاش کر رہے ہو؟ اپنا احتساب کرتے رہنا ۔
یزید کی راہ شیطان کی راہ تھی ۔ اس پر چل نکلے تو امام حسینؑ سے تعلق نہیں منافقت ہوگی ۔ اور یقین کر لینا کہ امام سے تعلق توڑے بیٹھے ہو یا جوڑے بیٹھے ہو ۔
آزاد ھاشمی
٧ ستمبر ٢٠١٨
Friday, 7 September 2018
امام حسینؑ کی امامت
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment