Saturday, 8 September 2018

طلقاء کا بیٹا

" طلقاء کا بیٹا "
کربلا کے پر آشوب اور کرب و ابتلاء کے بعد اسیران کربلا ،  رسیوں سے بندھے ہاتھوں ، سروں سے اتری چادروں ، خاک سے اٹے چہروں اور  طویل سفر کی تھکان سے پسے  ہوئے ، یزید بد بخت کے دربار میں لائے گئے ۔ یہ اسیر کوئی کڑیل جوان جنگجو نہیں تھے ۔ کہ جنکو اس اذیت سے گزارنا فاتح اپنی شان تصور کرے ۔ ایک بیمار  جوان جو چلنے کی سکت بھی نہیں رکھتا تھا ، اور باقی خواتین اور بچے ۔ خواتین بھی اس آل سے جن کے سر کا بال بھی ننگا نہ ہوتا تھا ۔ آج اپنے بالوں کی چادریں اپنے چہروں پہ ڈالے لائی جا رہی تھیں ۔ اس قافلے کی قیادت بیمار قافلہ نہیں بلکہ شیر خدا کی بیٹی کر رہی تھی ۔ وہ اللہ کا شیر جسے خیبر میں رسولؐ خدا نے " ادرکنی یا علی" کہہ کر آواز دی ۔ آج سالار قافلہ  ایک اقتدار کے بھوکے اور تکبر و رعونت کے مریض ، جو بغض اور کینہ کا پروردہ تھا ، رسیوں سے جکڑے کھڑی تھیں ۔
حسینؑ کا سر یزید کے سامنے رکھا تھا ۔
یزید بن معاویہ نے زبعری کے اشعار پڑھ کر امام حسین علیہ السلام کے قتل کو اپنے لئے باعث فخر قرار دیا اور کہا کہ کاش جنگ بدر میں مارے جانے والے میرے اجداد زندہ ہوتے تو دیکھتے کہ میں نے کیا کارنامہ سرانجام دیا ہے؛ تو سالار قافلہ زینب بنت علی(س) نے فرمایا:
أَ مِنَ الْعَدْلِ يَابْنَ الطُّلَقاءِ! تَخْدِيرُكَ حَرائِرَكَ وَ إِمائَكَ، وَ سَوْقُكَ بَناتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَ سَلَّم سَبايا؛
ترجمہ: اے طلقاء (آزاد کردہ غلاموں) کے بیٹے کیا یہ انصاف ہے کہ تو نے اپنی مستورات اور لونڈیوں کو پردے میں بٹها رکھا ہوا ہے اور رسول زادیوں کو اسیر کرکے پھرا رہا ہے"
آج تاریخ کا ورق ورق گواہ ہے کہ یزید کیلئے اس ندامت کا کوئی جواب نہیں تھا ۔ سوائے اسکے کہ آل رسولؐ پر مشق ستم اور سخت کردے ۔  جو اس نے کر ڈالی ۔ انجام کیا ہوا ؟ جن کو کربلا سے شام تک بازار بازار گھمایا گیا ، آج انکی عزت و توقیر کا کوئی ثانی نہیں ۔ اور جس نے بادشاہی کے زعم میں یہ سب کیا ، آج صبح و شام لعنت و ملامت کا مستحق ٹھہرایا جاتا ہے ۔
آزاد ھاشمی
یکم ستمبر ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment