" مطلب کا جہاد "
مسلمانوں کی بقاء ، اسلام کی احیاہ اور امن کی ابتداء کیلئے جہاد فرض ہوا ۔
جہاد ، فساد کی راہ میں رکاوٹ ۔
جہاد گمراہی کے خاتمے کی تحریک ۔
جہاد ، ظلمت میں روشنی پھیلانے کی سعی ۔
احکامات ربی پر نفس کو لگانا جہاد ۔
نہی المنکر ، امر بالمعروف کی کوشش جہاد ۔
جہاد ، علم کا نام اور امن کا پیغام تھا۔
جہاد بالقلم ، بالعلم ، بالعمل اور بالسیف ہے ۔ ہم نے قلم چھوڑ دیا ، علم سے بغاوت کردی ، عمل سے کنارہ کش ہو گئے ۔ بس تلوار تھام لی ۔ اور جہاد کو تلوار کے ساتھ نتھی کر دیا ۔ جہاں تلوار اٹھانے کی ضرورت پڑی وہاں رستہ بدل لیا ۔ اور جہاں ضرورت نہیں تھی اور جہاں مقابلے میں کمزور نظر آیا ۔ وہاں اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور خون بہا دیا ۔ اپنے کلمہ گو بھائیوں کو فروعی مسائل پر مار دینا ۔ جہاد بنا دیا ۔ مسالک کی جنگ میں مار دینا جہاد ہو گیا اور جب دنیا عالم میں کفر نے لیبیا کو روند ڈالا ، عراق کو تباہ کر دیا ، شام میں خون بہایا جا رہا ہے ، اب برما میں مسلمان کاٹے جا رہے ہیں ۔ سارے مفتیوں ، عالموں اور فلسفیوں کی گھگھی بندہی ہوئی ہے ۔ حلق خشک ہو رہے ہیں ۔ شعلے اگلنے والی زبانیں سوکھ رہی ہیں ۔ سیاستدان گونگے اور بہرے ہیں ، تمام مسلمان حکمران محلوں میں دبکے بیٹھے ہیں ۔ ان ملاوں نے اگر علم اور عمل پر جہاد کی تلقین کی ہوتی ، تو آج صورت حال مختلف ہوتی ۔ اب نہ تلواریں کام آرہی ہیں ، نہ ملت اسلامیہ کی طاقت کا کوئی فائدہ ہے ۔ اب کافروں کے سامنے دوزانو بیٹھے ہیں ۔ بھیک مانگ رہے ہیں مسلمانوں کی جان بخشی کی ۔ سفارتی مدد کیلئے جھولی پھیلا رہے ہیں ۔ مسلمانوں کو مسلمان پناہ نہیں دے رہے تو کافروں کا ہاتھ کون روکے گا ۔ سوشل میڈیا پہ چند دنوں کے بعد ، ان برما کے مسلمانوں کے خلاف ، کئی لبرل میدان میں کود پڑیں گے اور ثابت کر دیں گے کہ ان مظلوموں کے حق میں بولنا دہشت اور بد امنی کو ہوا دینا ہے ۔ اگر علم ،
قلم اور عمل سے جہاد جاری رہتا تو پوری امت اسلامیہ ایک ہوتی ۔ جس نے کہا کہ اب تلوار سے زیادہ ضرورت علم اور قلم کی ہے، وہ معتوب ہوا ۔ کافر بنا اور ایک کونے میں کر دیا گیا ۔ آج عملی ترقی اسی نے کی جس نے علم ، قلم اور عمل کو سیڑھی بنایا ۔ اگر قلم کام کرتا رہتا ، تو علم بڑھتا رہتا ۔ ہم اپنے حقوق کی حفاظت سیکھ لیتے ۔ ہم اپنے خلاف سازشوں کو وقت سے پہلے پہچان لیتے ۔ تلوار کی ضرورت بھی نہ ہوتی اور اپنی کند تلواروں پر حزیمت بھی نہ اٹھاتے ۔ برما کے گرد عالمی طاقتوں کی اٹھائی ہوئی فصیل گرانا بھی ممکن نہیں اور ان مظلوموں کی دادرسی بھی فرض ہے ۔ راستہ ڈھونڈھیں ۔ اپنے اپنے مطلب کے جہاد سے باہر نکل کے ۔ حقیقی جہاد کی تعلیم کے ساتھ ، حکم کے ساتھ اور عمل کے ساتھ ۔
آزاد ھاشمی
3 ستمبر 2017
Tuesday, 4 September 2018
مطلب کا جہاد
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment