" قرآن مجید اور علم و حکمت (2)"
سائنس اس دور کا وہ مضمون ہے جو زندگی کے ہر شعبہ پر محیط ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ سائنس تخیل اور نظریات کی بنیاد پر قائم ہے ۔ یہ نظریات اور ان پر تجربات سے ہونے والے نتائج ایک خاص مدت تک اپنی افادیت برقرار رکھتے ہیں اور وقت کے ساتھ ان میں تبدیلی ناگزیر ہوتی ہے ۔
قرآن چونکہ ایک دائمی علم ہے ، اس میں تبدیلی نہیں ہوتی ، ہاں اس سے وقت کی ضرورت کے مطابق تحقیق کرنے سے رہنمائی ملتی ہے ۔ ہم قران پاک کو سائنس کی کتاب نہیں کہہ سکتے ، ہاں البتہ دنیا کے ہر شعبہ میں تحقیق ، حکمت اور رہنمائی کا منبع کہہ سکتے ہیں ۔ قرآن نظریات پیش نہیں کرتا بلکہ سائنس کے اصول دیتا ہے ، جس پر وقت کی ضرورت کے مطابق نتائج اخذ کئے جاتے ہیں ۔
قرآن مجید میں چھ ہزار چھ سو چھتیس آیات ہیں، جن میں ایک ہزار سے زیادہ سائنس کے متعلق ہیں، جو سائنس کے اصول وضع کرتی ہیں ۔
سائنس کے ان علوم کو علم نباتات ، حیوانیات ، طبیعات ، کیمسٹری ، جیالوجی ، علم طب وغیرہ وغیرہ کو دیکھتے ہیں کہ قرآن نے کس احسن انداز سے پیش کیا ۔
۔۔۔جاری ہے ۔۔۔
آزاد ھاشمی
٦ ستمبر ٢٠١٨
Friday, 7 September 2018
قران مجید اور علم و حکمت2
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment