Saturday, 8 September 2018

قرآن مجید اور علم و حکمت (3)

" قرآن مجید اور علم و حکمت(3) "
اللہ سبحانہ تعالیٰ نے بہت سارے موضوعات کو بھی چند آیات کے اندر اسطرح بیان فرمایا ہے کہ انسان کیلئے تحقیق کی نئی نئی راہیں مقرر فرما دیں ۔ اللہ تعالی نے فرمایا کہ ؛
" زمین میں چلنے والے کسی جانور اور ہوا میں پروں سے اڑنے والے کسی پرندے کو دیکھ لو یہ سب تہماری طرح کے معاشروں میں ہیں "
یعنی پرند اور چرند بے لگام زندگی نہیں گذارتے انکے بھی معاشرے ہیں ، گروہ ہیں اور ایک نظم و ضبط ہے ۔ خالق کی  ہر تخلیق کو کسی نہ کسی طرح کا ربط دیا گیا ہے ۔ قرآن میں بیان کئے گئے قاعدے پر آج انسان نے جتنی بھی تحقیق کی اسے قرآن کی صداقت کے ثبوت ملے ہیں ۔ قرآن میں اگاہی دی کہ
"   کیا ان لوگوں نے کھبی پرندوں کو نہیں دیکھا کہ فضائے آسمانی میں کس طرح مسخر ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کس نے انکو تھام رکھا ہے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔"
ایک اور آیت مبارکہ میں
فرمایا
" یہ لوگ اپنے اوپر اُڑنے والے پرندوں کو پر پھیلاتے اور سیکٹرتے نہیں دیکھتے؟ رحمان کے سوا کوئی نہیں جو انہیں تھامے ہوئے ہو۔ وہی ہر چیز کا نگہبان ہے۔"
ان آیات سے قانون فطرت کیطرف اشارہ ہے ۔ انسان دیکھتا ہے کہ ایک پرندہ اپنی پرواز کے دوران تسخیر کے عمل سے گذرتا ہے ۔ سائنس اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ پرندے اپنی بقاء اور نسل کی ترویج کیلئے ہزاروں میل کا سفر کرکے ایک خطے سے دوسرے خطے کیطرف نقل مکانی کرتے ہیں ۔ سفر کا کٹھن ہونا ، سمت کا تعین کرنا ،  سفر کے اوقات کا حساب رکھنا ، پرندے کی اپنی عقل اور شعور کے تحت نہیں ہے بلکہ اس قانون فطرت کے تحت ہے جو قدرت نے انکے لئے طے کر رکھا ہے ۔ قرآن نے انسان کو بنیاد فراہم کر دی کہ وہ پرندوں کی معاشرت پر ، انکی تسخیر کے عمل پر تحقیق کرے ۔ ہزارہا انواع و اقسام کے جانور اور پرندوں پر تحقیق ہر روز ایک نیا باب کھول دیتی ہے ۔ یہ صرف قران کا اعجاز ہے کہ تحقیق کا لمبا سفر چند آیات میں بیان کرکے انسان کی رہنمائی کر دی ۔
۔۔۔۔۔ (جاری ہے )۔۔۔۔۔۔
آزاد ھاشمی
٨  اگست  ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment