" ماں ! اب تھک جاتا ہوں "
زندگی کے نشیب و فراز کبھی میرے حوصلوں کو شکست نہ دے سکے ۔ مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ بغیر تھکن محسوس کئے ، زندگی کیسے گذر گئی ۔ مجھے کبھی احساس ہی نہیں ہوا کہ میرے قدموں میں یہ استقامت کیوں رہی ۔ مجھے یاد ہے جب میرے والد محترم ( اللہ غریق رحمت فرمائے ) ذمہ داریوں کا پہاڑ میرے کندھوں پر چھوڑ کر اپنے خالق حقیقی کے پاس چلے گئے ۔ نہ وسائل کا سہارا تھا اور نہ کندھے اتنے مضبوط تھے کہ بوجھ امتحان دکھائی نہ دیتا ۔ یاد ہے جب رشتوں کی رسیاں ٹوٹنا شروع ہوئیں تو گبھراہٹ نہیں ہوتی تھی ۔ میں اکیلا نہیں تھا ، ایک مضبوط ، شفقت بھرا ہاتھ میری پشت پہ تھا ۔ مجھے مسائل کی دھوپ کی کوئی فکر نہیں تھی ، ایک ٹھنڈی چھاوں میرے سر پر سایہ کئے رہتی تھی ۔ یخ بستہ سردی میرے ننگے جسم پر اثر نہیں کرتی تھی کہ مجھے ماں کی آغوش کی گرمی میسر تھی ۔ ایک طویل عمر اس سکون سے گذر گئی کہ پتہ ہی نہیں چلا کہ میں بوڑھا ہو گیا ہوں ۔ میں چونسٹھ سال کی عمر میں بھی جوان ہی رہا ۔ اس روز چند لمحوں میں ، مجھ پر قیامت گزری گئی جب میری بیٹی نے روتے ہوئے کہا ۔
" ابو ! دادی جان ہمیں چھوڑ کر چلی گئیں " یوں لگا کہ مجھے ان لمحوں نے بے بسی کی دلدل میں ڈال دیا ہے ۔ میں چند لمحوں میں بوڑھا ہو گیا ۔ بہت ہمت کی کہ جیسے جی رہا تھا ، ویسے ہی جیتا رہوں ۔ مگر کامیابی نہیں ملی ۔ جب بھی کسی ماں کو بچوں سے پیار کرتے دیکھتا ہوں تو بلک بلک کر رونے کو دل کرتا ہے ۔ کبھی آنسو روک لیتا ہوں ، کبھی روک نہیں پاتا ۔ بہت دل کرتا ہے کہ ماں کو بتاوں ۔
" امی جان ! اب بہت تھک جاتا ہوں ۔ ہمت نہیں رہی کہ زمانے کے ساتھ بھاگ سکوں ۔ اب آپکا بیٹا بوڑھا ہو گیا ہے " پھر سوچتا ہوں ، ماں کو آزردہ کیوں کروں اور کونے میں بیٹھ کے رو لیتا ہوں ۔
آزاد ھاشمی
٤ ستمبر ٢٠١٨
Monday, 3 September 2018
ماں! اب تھک جاتا ہوں
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment