" یزید کی بزدلی اور کینہ پروری "
دنیا کی تاریخ میں فسق و فجور کی ان گنت داستانیں رقم ہیں ۔ انتقام ،
کینہ اور بغض کا یہ انوکھا مظہر ہے ۔ جسکی بنیاد بنو عبد شمس نے بنو ہاشم کی پرخاش میں طلوع اسلام سے بہت پہلے رکھ دی تھی ۔ جب اسلام کی روشنی پھیلنے لگی تو سلگتی چنگاری انتقام کی آگ بن گئی ۔ بدر کے مقام پر ، پھر احد کی پہاڑ پر ، پھر خندق و خیبر میں مسلمانوں کو ختم کرنے کے جتن ہوئے ۔ ان جیسے معرکوں میں بڑے زور آور کافر سردار مارے گئے ۔ فتح مکہ کے بعد انہی سرداروں کے باقی ماندہ اور انکی اولادیں اسلام میں داخل ہوگئیں ۔ مسلمانوں نے دل وجان سے انہیں قبول کیا مگر یہ ظاہری طور پر اسلام قبول کرکے اپنے آباد واجداد کا بدلہ لینے کے ارادے سے باز نہیں آئے ۔ یہ اس تلاش میں تھے کہ آل رسولؐ سے کب اور کیسے بدلہ لیا جائے ۔ اس چنگاڑی سے شعلہ بننا اسوقت شروع ہوا ، جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے حکومت سنبھالی ۔ پھر تاریخ بدلنا شروع ہوئی ۔ اقتدار کی ہوس نے بنو امیہ کو اندھا کر دیا ۔ خلافت بادشاہت اور ملوکیت کا رنگ اختیار کر گئی ۔
یزید کو حکومت جانشینی میں مل گئی اور باپ کی نصیحت کے مطابق حسینؑ کو راستے سے ہٹانا اسکا اہم مشن تھا ۔ اور امام حسینؑ سے بدلہ لینے کا بہترین موقع تھا ۔
یہ انوکھی جنگ تھی ، جو تاریخ کے صفحوں پر صرف ایک بار رقم ہوئی ۔ ایسی جنگ نہ کبھی پہلے ہوئی نہ کبھی بعد میں ہوگی ۔ بزدلی اور شجاعت کی جو تاریخ اس جنگ نے رقم کی پھر کبھی نہیں ہوئی ۔ ایک طرف پورے ساز و سامان کے ساتھ ، ماہر جنگجو ، ماہر نیزہ باز ، ماہر تیر انداز ، تاریخ بیس سے چالیس ہزار افراد بتاتی ہے ۔ دوسری طرف معصوم بچے ، پردہ دار بیبیاں ، چند عمر رسیدہ ، نہ سامان حرب سے لیس ، چند تلواریں جو عربوں کی روایت تھیں ۔ جن کی تعداد سو افراد سے کچھ زیادہ کہی جاتی ہے ۔ تعجب یہ تھا کہ اتنی بڑی فوج جو حملے کی نیت سے میدان میں آئی تھی ، اس مختصر سے قافلے سے اتنی خوف زدہ کہ انہیں بھوک اور پیاس سے نڈھال کر کے شہید کرنے کی حکمت عملی اپنانے پر مجبور تھی ۔ یزید کی بزدلی کی انتہا ہے جو اس مختصر سے
معرکے میں ظاہر ہوئی ۔ بغض اور کینہ پروری کا یہ عالم کہ چھ ماہ کے معصوم کے حلق میں بھی تیر پیوست کر دیا ۔ شیطان یزید اور اسکے ساتھیوں کی کمر تھپتھپا رہا تھا کہ تم جیت گئے ۔ تم نے اپنے اباواجداد کا بدلہ لے لیا ، اور تقدیر کا مالک یزید اور یزید کے ساتھیوں کے نصیب میں تاقیامت لعنت کا طوق لکھ رہا تھا ۔ جنگ ختم ہوئی تو بزدل فوج نے پاک جسموں کو جس طرح گھوڑوں کے قدموں تلے روندا ، جسطرح خواتین کی چادریں چھینیں ، جسطرح قیدیوں کے ہاتھ رسیوں سے باندھے اور کئی میل مسافت میں کئی شہروں کے بازاروں سے اس قافلے کو گذارا ۔ یہ سب کوئی بھی انسان نہیں کر سکتا تھا ۔ یزید کی کوشش تھی کہ آل رسولؐ کو رسوائی دے مگر جس گھر کو اللہ نے معتبر کیا ہو ، وہ قیامت تک معتبر ہے اور آل رسولؐ پر سلام بھیجنے والے ان گنت ہیں ۔ یزید ملعون ہوا اور قیامت تک ملعون رہے گا ۔
آزاد ھاشمی
٨ ستمبر ٢٠١٨
Sunday, 9 September 2018
یزید کی بزدلی اور کینہ پروری
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment