" سلام ہو عبداللہ بن یقطر "
حسینؑ ابن علیؑ کے سامنے مکہ سے کربلا تک بیشمار امتحان کھڑے تھے ۔ ہر منزل پر ایک نئی آزمائش سامنے آ کھڑی ہوتی تھی ۔ صبر و استقامت کا یہ بلند قامت پہاڑ نہ نانا کی امت سے شاکی تھا اور نہ اللہ کے سامنے کوئی گلہ تھا ۔ ایک ہی سوچ کہ کسی طرح نانا کا دین بچ جائے اور اللہ کی رضا مل جائے ۔ امام کے چہرے پر کوئی ایک شکن نہیں تھی کہ جس سے کوئی غم ،
کوئی فکر یا کوئی خوف جھلک رہا ہو ۔ روایت ہے کہ عبداللہ بن یقطر ، جو امام حسینؑ کے رضاعی بھائی تھے ۔ انہیں مسلم بن عقیل کی طرف کوفہ روانہ کیا ۔ لیکن وہ حصین بن نمیر کے ہاتھوں گرفتار ہوکر ابن زیاد کے پاس لے جائے گئے۔ ابن زیاد نے حکم دیا کہ انہیں دارالعمارہ کی چھت پر لے جایا جائے تاکہ کوفیوں کے سامنے امام حسینؑ اور علی کرم اللہ وجہہ پر سبّ و لعن کریں۔ عبداللہ بن یقطر نے دارالامارہ کی چھت سے کوفہ والوں سے مخاطب ہوکر کہا:
"اے لوگو! میں تہمارے پیغمبر کی بیٹی کے فرزند حسینؑ کا ایلچی ہوں؛ اپنے امام کی مدد کو دوڑو اور ابن مرجانہ کے خلاف بغاوت کرو"۔
باور رہے کہ عرب میں جس شخص کی ولدیت مشکوک ہو اسے ابن مرجانہ کہا جاتا تھا ۔ اور ابن زیاد کا یہ نام معروف تھا ۔
ابن زیاد نے جب یہ دیکھا تو حکم دیا کہ انہيں چھت سے نیچے گرا دیا جائے ۔انہیں نیچے گرا دیا گیا ۔ عبداللہ بن یقطر جانکنی کی حالت میں تھے کہ ایک شخص نے آکر انہیں شہید کردیا۔
عبداللہ بن یقطر کی شہادت کی خبر مسلم اور ہانی کی شہادت کی خبر کے ہمراہ زبالہ کے مقام پر امام حسینؑ کو ملی۔
آزاد ھاشمی
٩ ستمبر ٢٠١٨
Sunday, 9 September 2018
سلام ہو عبداللہ بن یقطر
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment