"امامؑ کا اللہ کے ساتھ راز و نیاز "
امام حسینؑ کو یزید اور اسکے ساتھیوں کے کردار ، سوچ اور کینہ پروری کا پورا علم تھا ۔ آل رسولؐ کے ساتھ معاویہ کے تخت نشین ہونے کے بعد جو کچھ ہو رہا تھا وہ کسی بھی مہذب معاشرے میں قابل نفرت عمل ہوتا ہے ۔ مساجد میں خطبے کے دوران حضرت علیؑ پر طعن و تشنیع کی جو وجوہ نظر آتی ہیں ۔ اسے ماضی کا انتقام ، خاندانی رقابت اور کینہ کہنا غلط نہیں ہو گا ۔ امام حسینؑ کو علم تھا کہ جس شخص کی دادی ایک شہید کے کان ، ناک کاٹ کر گلے کا ہار بنا سکتی ہے ۔ سینہ چیر کر جگر کو چبانے کے بعد نگلنےکی کوشش کر سکتی ہے ۔ ایسی خاتون کا وارث کیا نہیں کر گذرے گا ۔ فسق و فجور کے سامنے کھڑے ہونے کا حوصلہ حسینؑ کی رگوں میں دوڑنے والے خون کا حصہ تھا ۔ آپ کسی کے سامنے مدد کا سوال نہیں کر سکتے تھے کیونکہ سخی گھرانے کے لوگ دینا جانتے ہیں ،
مانگنے کی عادت نہیں رکھتے ۔
امام حسینؑ نے اپنی بے بسی کی اس حالت میں اپنے قیام کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:
"خدایا تو جانتا ہے کہ جو کچھ ہماری طرف سے انجام پایا ہے ، فرمانروائی کے لئے مسابقت اور دنیا کی ناچیز متاع کے حصول میں سبقت لینے کی خاطر نہیں ہے بلکہ اس لئے ہے کہ تیرے دین کی نشانیاں لوگوں کو دکھا دیں اور بپا کریں اور تیری سرزمینوں میں اصلاح کے آشکار کردیں۔ ہم چاہتے ہيں کہ تیرے مظلوم بندے امان میں ہوں اور تیرے واجبات اور سنتوں پر عمل کیا جاتا رہے"۔
امامؐ نے اپنی تحریک کے آغاز میں فرمایا:
"میں اپنا وطن کسی شر و فساد پھیلانے اور ظلم و ستم کرنے کی خاطر نہیں چھوڑ رہا ہوں بلکہ مدینہ سے میری روانگی کا مقصد یہ ہے کہ اپنے نانا حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ کی امت کی اصلاح کروں؛ اور امر بالمعروف کروں اور نہیں عن المنکر کروں (نیکی کا حکم دوں اور برائیوں سے روکوں) اور اپنے نانا رسول اللہؐ اور بابا علی بن ابی طالبؑ کی سیرت پر عمل پیرا ہونا چاہتا ہوں۔"
آج امام حسینؑ نے جو کہا ،
حقائق بتاتے ہیں کہ
" اسلام زندہ ہوا ، اس کربلا کے بعد "
آزاد ھاشمی
١٢ ستمبر ٢٠١٨
Wednesday, 12 September 2018
"امامؑ کا اللہ کے ساتھ راز و نیاز
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment