" یزید کی موت اور مدفن "
کربلا میں جو ہوا ، اس پر نہ تاریخ میں اختلاف ہے ، نہ حقائق میں تضاد ۔ وہ جن کو آل رسولؐ سے زیادہ آل امیہ سے محبت ہے ، وہ جو بغض علیؑ اور حب معاویہ سے سرشار ہیں اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے ، کہ کربلا میں آل رسولؐ اور انکے ساتھیوں پر پانی بند کیا گیا ۔ امام حسینؑ اور ساتھیوں کے جسموں کو گھوڑوں کے قدموں سے پامال کیا گیا ۔ پردہ دار بیبیوں کی چادریں چھینی گئیں ۔ سینکڑوں میل کی مسافت اس آل رسولؐ کو رسیوں میں باندھ کر ہر شہر کے ہر بازار میں تماشا کیا گیا ۔ قرآن کی رو سے یہ فسق ہے اور فاسق پر جنت کے دروازے بند ہیں ۔ یزید کے جنتی ہونے کا جو بھی جتن کر لیا جائے اللہ کے طے کردہ قانون سے اسکے فسق کی نفی نہیں کی جا سکتی ۔
یزید کی موت کیسے ہوئی ، وہ کہاں دفن ہے؟ وہ امیر المومنین کہلاتا تھا ، اس شہر میں دفن کیوں نہ ہوا ، جہاں اسکا تخت حکومت تھا ؟ یہ وہ چند سوال ہیں جو اسی دنیا میں اسکے مکافات عمل کی نشاندہی کرتے ہیں ۔ تاریخ میں اسکے مرنے کی ایک وجہ یہ بیان ہوتی ہے کہ وہ کسی پیٹ کے مرض کا شکار ہوا ۔ پانی پیتا تو شدید تکلیف محسوس کرتا نہ پیتا تو بھی تکلیف میں ہوتا ۔ مرتے وقت اسکی حالت یہ تھی کہ اس سے ناگوار بدبو آتی تھی ۔
دوسری روایت یہ ہے کہ اسکے پالتو بندر نے اس خچر کو برانگیختہ کر دیا جس پر بندر سواری کرتا تھا ، یزید نے خچر کو قابو کرنا چاہا اور اپنے گھوڑے سے گر گیا ، جس سے اسکی گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی اور حوارین میں اسی تکلیف میں مر گیا ۔
حوارین میں کیوں دفن کیا گیا ، یہ اسکی مجبوری تھی کہ اس کی کربناک موت عام لوگوں سے چھپی رہے ۔
آج کتنے لوگ جانتے ہیں کہ یزید کی قبر کس حال میں ہے اور اس کی شہنشاہت کا انجام کیا ہوا ۔ اسکے اپنے بیٹے نے موت سے پہلے جب یزید نے اسے تخت خلافت دینا چاہا تو اس نے انکار کر دیا ۔ یزید اس کرب سے تڑپنے لگا کہ بستر مرگ پر چیختا جاتا اور ایڑیاں رگڑتا جاتا ۔
یزید کی عمر اڑتیس یا انتالیس سال تھی جب اسے کربناک موت نے دبوچ لیا ۔
آزاد ھاشمی
١٤ ستمبر ٢٠١٨
Friday, 14 September 2018
یزید کی موت اور مدفن
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment