" قرآن مجید اور علم و حکمت(٤ ) "
اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قرآن بہت سے ایسے موضوعات کو بھی بیان کیا ، جن کا تعلق ایمان اور دین کے اصول و ضوابط سے نہیں ۔ جو نہ نیکی اور بدی سے متعلق ہیں اور نہ ہی ایمان کی شرائط ہیں ۔ ان پر غور کرنے سے واضع ہوتا ہے کہ ان موضوعات کا تعلق علم سائنس سے ہے ، انسان کیلئے معلومات فراہم کرنے سے ہے اور انسان کو ترغیب دینے سے ہے کہ وہ ایسے بیشمار موضوعات پر تحقیق کی راہیں کھولے ۔ جیسے قرآن میں شہد کی مکھی کا ذکر ہے ۔
" اور دیکھو تہمارے رب نے شہد کی مکھی پر یہ بات وحی کر دی کہ پہاڑوں میں اور درختوں میں اور اُونچی چھتریوں پر اپنے چھتے ّ بنا تے اور ہر طرح کے پھولوں کا رس چوستے اور اپنے رب کی ہموار کی ہوئی راہوں پر چلتی رہے"
جب اس پر تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ شہد کی کسی مکھی کو جب کوئی نیا باغ یا پھول دکھائی دیتا ہے تو وہ اپنی ساتھی مکھیوں کو اُس مقام کا ٹھیک ٹھیک سمت آگاہ کرتی ہے۔ اور یہ چند مخصوص حرکات و سکنات سے سمجھاتی ہے ، جسے شہد کی مکھی کا رقص کہا جاتا ہے ۔
بلکہ اس کا مقصد شہد کی کارکن مکھیوں کو یہ سمجھانا ہوتا ہے کہ پھول کس سمت ہیں اور وہاں تک پہنچنے کے لیے انہیں کس انداز سے پرواز کرنا ہو گی۔ غور فرمائیے کہ مذکورہ بالا آیات مبارکہ میں قرآن عظیم وشان نے کتنی صراحت کے ساتھ یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھی کو خاص طرح کی مہارت عطا فرمائی ہے جس سے لیس ہو کر وہ اپنے رب کے بتائے ہوئے راستےتلاش کر لیتی ہے۔
۔۔۔۔۔جاری ہے ۔۔۔۔۔
آزاد ھاشمی
١٢ ستمبر ٢٠١٨
Wednesday, 12 September 2018
قرآن مجید اور علم و حکمت 4
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment