Monday, 10 September 2018

امام حسینؑ کی قربانی کا ایک اور سبب

" امام حسینؑ کی قربانی کا ایک اور سبب " 
عرب کے مخصوص خطہ کو دیکھیں یا اسوقت کے گرد و نواع کی سلطنتوں کو دیکھیں ، تو عام انسان ایک غلام کی طرح تھا ۔ ایک مخصوص طبقہ اشرافیہ ہوا کرتا تھا اور وہی نسل در نسل حکمران تھے ۔ اسلامی تعلیمات میں اس تسلسل کی حوصلہ شکنی کی تعلیم نظر آتی ہے ۔
کیونکہ اسلامی تعلیم کا بنیادی مقصد بنی نوع انسان کو شخصی غلامی سے  سے نجات دلا کر  خداپرستی ، سوچ اور  فکر کی آزادی ، انسان کا احترام  ، حقوق کی برابری  اور اخوت و محبت کو فروغ دینا ہے ۔ خلفائے راشدین کے دور تک اسلامی حکومت کی یہ حیثیت برقرار رہی۔ یزید کی حکومت چونکہ  خلفاء راشدین کے طریقے سے ہٹ کر جانشینی اور بادشاہت کی طرز پر استوار کی گئی تھی اور اس مقصد کو حاصل کرنے کیلئےخلیفہ وقت نے ہر ممکن جتن کیا اور ہر طریقے سے لابنگ کی ۔ صحابہؓ کی ایک کثیر تعداد
اس پر نالاں بھی ہوئی مگر  انکی رائے یا ناراضگی کو کوئی اہمیت نہ دی گئی ۔
یہ تبدیلی بلا شبہ
اسلامی نظام شریعت کا رخ موڑ رہی تھی ۔ یزید نے  اقتدار سنبھالتے ہی  اپنے جبر اور فسق سے ہر بولنے والے کو  خاموش کرنے کی روش اختیار کر لی ۔ اس روایت کی حوصلہ شکنی ضروری تھی ، وگرنہ یزید اور اسکے ساتھی اپنے شوق اور خصلتوں سے اسلام کی تعلیم کا نقشہ بگاڑ کر رکھ دیتے ۔ صرف حسینؑ تھے جنہوں نے اس بے راہرو طرز حکمرانی کیخلاف اپنا سب کچھ پیش کر دیا ۔ پھر جو فسق و فجور کی کہانی دہرائی گئی ، تاریخ نے محفوظ کی ۔  شکست سے دوچار ہونے والے پوری کائنات میں معتبر ہو گئے اور فتح کی خوشیاں منانے والے ملعون بھی ہوئے اور نام و نشان بھی باقی نہ رہا ۔ حقائق گواہ ہیں کہ آج اسلامی نظام کا کچھ تاثر باقی ہے تو صرف حسینؑ ابن علیؑ کی قربانی کے سبب سے ہے ۔
آزاد ھاشمی
١٠ ستمبر ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment