Saturday, 15 September 2018

یزید کی موت پہ اختلاف کیوں

" یزید کی موت پہ اختلاف کیوں "
یزید کی موت کے بارے میں تین روایات ہیں ۔
١- کہ وہ بندر کے ساتھ کھیلتے ہوئے گھوڑے سے گرا اور اسکی گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی ۔ اس سے اسکے حلق سے جو آواز نکلتی تھی وہ خنزیر کی آواز سے مشابہ تھی ۔
٢- کہ اسے پیٹ کا موذی مرض لگا ، جس سے اسکی آنتیں گل سڑ گئیں ، پیٹ میں کیڑے پڑ گئے اور اسے پیاس لگتی تو زخموں میں شدت سے چبھن ہوتی اور اگر پانی پی لیتا تو بستر پر تڑپنے لگتا ۔ چبھن مزید شدید ہو جاتی تو چیخنے لگتا۔
٣ ۔ کہ اسکا کسی رومن عورت پر دل آگیا تھا ، وہ عورت اسے ناپسند کرتی تھی ، موقع پا کر اسے تنہائی میں ملنے گیا اس نے زہر آلود خنجر سے حملہ کیا تو زہر کیوجہ سے جسم سڑنے لگا اور اسی سے یزید کی موت ہوئی ۔ 
  سوال یہ ہے کہ یزید کی موت پہ اختلاف کیوں ہے یعنی موت کی ذیادہ روایات کیوں ہیں ؟
ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ بحیثیت خلیفہ شاہی طریقے سے تدفین ہوتی ، کیونکہ یہی شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ انکی منشاء تھی ۔ یزید کی حکومت میں کوئی اسلامی طرز حکومت نہیں تھا ، قیصر و کسریٰ کا طرز اور بود و باش تھی ۔ پھر ایسا کیوں  ہوا اور اسے دارلحکومت میں دفن کی بجائے اس جگہ دفن کیا گیا جہاں اسکے ننھیال کا علاقہ تھا اور جو مضافات میں تھا ۔ موت کی تینوں روایات غضب الہیٰ کی نشاندہی کرتی ہیں ۔ بنو امیہ نہیں چاہتے تھے کہ اسکی بے بسی کا عالم عام مسلمانوں کی نظر سے گذرے اسلئیے اسے دارلحکومت سے نکال کر مضافات میں رکھا گیا ۔ یزید جس عذاب سے گذر رہا تھا ، تینوں اموات میں انتہائی دردناک ہے ۔ روایت یہ بھی ہے کہ جب وہ درد کی شدت سے چیختا تھا تو اسکی آواز خنزیر کیطرح سنائی دیتی تھی ۔
بنو امیہ نے نہ صرف تاریخ کی تحریف کی بلکہ آج جو احادیث یزید کو جنتی ثابت کرنے کیلئے پیش کی جاتی ہیں ، یہ بھی اموی دور کی ہیں ۔  اسلام پر تحقیقی اور تخریبی مواد بھی اسی دور میں اکٹھا کیا گیا ۔ آل رسولؐ سے تعلق رکھنے والے امام بھی عتاب کا شکار اسی دور میں رہے اور ان تمام کو شہید بھی اسی لئے کیا گیا کہ بنو امیہ کی منشاء کے مطابق فقہ و فلسفہ دین کا رخ موڑا جا سکے ۔ موت کی یہ روایات جو ہم تک پہنچی ہیں ، اتفاق ہے کہ آج تک  یزید کے حامی کوئی ایسی روایت نہیں بنا سکے جس میں ثابت کر سکیں کہ یزید سکون کی موت مرا ۔  ایسی روایت نہ بننے کی وجہ یہ  سوال بھی ہے کہ اگر یزید سکون کی موت مرا تو اسے " حوارین " میں دفن کیوں کیا گیا ۔ ایک گمنام کونے میں قبر کیوں بنائی گئی ۔
یہ اسکے جرم کی سزا تھی جو اللہ نے اسکے لئے مقرر کی تھی ۔ تاریخ گواہ ہے کہ صرف یزید ہی نہیں ، وہ تمام لوگ جنہوں نے کربلا میں ظلم کئے ، اسی طرح ذلت کی موت مرے اور آج کونوں کھدروں میں دفن ہیں ۔ کسی کا نشان معتبر نہیں ۔
آزاد ھاشمی
١٥ ستمبر ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment