Friday, 14 September 2018

شمر بن جوشن

"شمر بن ذی الجوشن "
امام حسینؑ کی شہادت کی عظمت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جن لوگوں نے  بھی آپ پر ستم ڈھائے تاریخ کے اعتبار سے انکی نسل میں کوئی نہ کوئی نقص ضرور تھا ۔ اکثریت وہ تھی جن کے اجداد فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے ۔
شَمِر، کی کنیت "ابو سابغہ" تھی۔ تابعین میں سے تھا اور قبیلہ ہوازن کی شاخ بنو عامر بن صعصعہ کے رؤساء میں شمار ہوتا تھا اور ضباب بن کلاب کی نسل سے تھا۔ بظاہر شمر ایک عبرانی لفظ ہے جس کی معنے افسانہ سرا، شب نشینی میں مصاحب  ہے۔   (ہم ہمارے ہاں کے مروجہ القاب میں " بھانڈ اور بھڑوا کہہ سکتے ہیں ۔ )
شمر کا باپ  "جوشن بن ربیعہ" تھا۔ ذوالجوشن نے اسلام قبول کرنے کے سلسلے میں رسولؐ اللہ کی دعوت کو وقعت نہ دی لیکن فتح مکہ میں جب مسلمان مشرکین پر فتح مند ہوئے تو اس نے (بہت سے دوسروں کی مانند) اسلام قبول کیا۔ شمر کی ماں کا کردار معیوب تھا ۔
اسی نے مسلم بن عقیل کی شہادت کے اسباب مہیا کیے، عاشورہ کے دن جنگ کی آگ بھڑکا دی، عمر بن سعد کے میسرے کا امیر تھا، امام حسین کو اسی نے شہید کیا، خیام پر حملہ کیا اور امام سجاد کو شہید کرنے کی کوشش کی۔
یہ تھا ایک کردار ، جو یزید کی فوج کے ہراول دستوں میں شامل تھا ۔
آزاد ھاشمی
١٤ ستمبر ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment