Friday, 14 September 2018

یزید کے لٹیرے

" یزید کے لٹیرے "
اسلام امن و آشتی کا پیامبر دین ، اپنے دفاع یا دین کے دفاع میں لڑی جانے والی جنگوں میں بھی ،  فتوحہ علاقوں اور شکست خوردہ دشمن سے بھی ہر ممکن بھلائی کے سلوک کا درس دیتا ہے ۔ آپؐ کی زندگی میں مشرکین اور کفار کے ساتھ بیشمار غزوات اور سرایہ ہوئے ، ان لوگوں سے ہوئے جو بد ترین طریقے سے آپؐ کو آزار پہنچاتے رہے ، آپؐ  نے در گذر کی ایک ایسی مثال قائم کی ، جو اسلامی تعلیمات کو ہر دوسرے مذہب پر ممتاز کرتی ہے ۔ کربلا کو جنگ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ جنگ لڑائی کے متوازن ارادوں کا نام ہے ۔  یہ یکطرفہ جارحیت تھی ، جبر تھا جو یزید اپنے کینہ اور عداوت اور حکمرانی کے استحکام کیلئے کر رہا تھا ۔
امام حسینؑ کی شہادت کے بعد
یزید کی فوج نے شہدا کربلا کے جسموں کی جس طرح توہین کی وہ رزالت کی انتہا تھی ۔ یزیدی یہ سب اس آل سے کر رہے تھے ، جس کے نانا کا کلمہ پڑھتے تھے ۔ جن پر نماز میں درود بھیجتے تھے ۔
کم ظرفی کی انتہا اسوقت ہوئی ، جب انہوں نے اس لٹے ہوئے قافلہ کی ہر چیز لوٹنا شروع کی ۔
حتی کہ امامؑ کے مبارک  پر موجود ہر چیز لوٹ کر لے گئے؛ قیس بن اشعث اور بحر بن کعب نے آپ کی قمیض ، اسود بن خالد اودی نے آپ کے نعلین‌، جمیع بن خلق اودی نے آپ کی تلوار ، اخنس بن مرثد نے آپ کا عمامہ، بجدل بن سلیم نے آپ کی انگوٹھی اور عمر بن سعد نے آپ کا زرہ بھی لوٹ لیا ۔ اس بات کا بھی احترام نہیں کیا کہ آپ کا مبارک جسم ننگا ہو جائے ، اتنا بھی نہیں سوچا کہ بے کفن جسم پر قمیض تو رہنے دی جاتی ۔
اس کے بعد ملعونوں  نے خیموں پر حملہ کیا اور ان میں موجود تمام سامان لوٹ لیا اور اس کام میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاتے رہے۔ شمر امام سجادؑ کو قتل کرنے کی خاطر دشمن کے ایک گروہ کے ساتھ خیموں میں داخل ہوا لیکن حضرت زینبؑ اس کام میں رکاوٹ بنیں۔ خیموں میں تھا ہی کیا ۔ زر و زیور اس آل کی تمنا ہی نہیں تھی ۔ چٹائیوں پر سونے والوں کی اولاد تو زمین پر سو رہی تھی ۔ چادریں بچی تھیں ، یزید کے لٹیروں نے بیبیوں کے سروں سے وہ بھی چھین لیں ۔
آزاد ھاشمی
١٣ ستمبر ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment