" کربلا کیطرف "
دنیا حج کیلئے انتظامات کر رہی تھی ، کچھ کعبہ میں پہنچ چکے تھے ، کچھ سفر میں تھے ۔ فاطمہؑ اور علیؑ کا چھوٹا بیٹا ، جو کائنات کے سرور کی گود میں کھیلا کرتا تو اللہ کا حبیب جب بھی بوسہ فرماتے ، گردن پہ بوسہ فرمایا کرتے ۔ جسے دنیا " حسینؑ ابن علیؑ " کے نام سے پکارتی ہے ۔ اسی حج کے فرض کی ادائیگی کیلئے مختصر سے خاندان کے ساتھ عازم حج تھے ۔ مگر ادھر مشیت ایزدی کا اپنا الگ پیغام تھا ۔ شاید سنت ابراہیمیؑ کے فرض سے زیادہ اہم فرض تھا ، جو حسینؑ کے ذمہ تھا ۔ جسے ادا کرنے کا وقت قریب آگیا ۔ حکم ہوا کہ حج کو عمرے میں بدلو اور اپنی منزل کیطرف کوچ کرو ۔ اہل ایمان کو تمہاری ضرورت آن پڑی ہے ۔ ایک اقتدار کا حریص ، ملوکیت کے قدم جمانے پہ لگا ہوا ہے ۔ عمل سے ، لباس سے ، اطوار سے خود کو با ایمان ظاہر کرتا ہے ۔ طمع اور حرص کے غلام اسکی بیعت میں ہیں ، مگر اصل صاحبان ایمان کو ، اللہ کے دین کو ، تیرے نانا کے اسوہ کو تیری ضرورت ہے ۔ رخت سفر باندھ لو ۔ جو اللہ کی رضا کے سامنے سر جھکائے بیٹھے ہوں ، ان کی لغت میں کیوں اور کیسے ہوتا ہی نہیں ۔ جب ابراہیمؑ کو بیٹے کی قربانی کا حکم ہوا اور بیٹے کو بتایا ، نہ باپ نے سوال کیا " کیوں " اور نہ بیٹے نے پوچھا " کیوں " ۔ اللہ کی رضا ہے تو " لبیک " ۔ حسینؑ نے بھی اللہ کے حکم پہ " لبیک " کہا اور رخت سفر باندھ لیا ۔ یزید کے کردار پر ، اسکی طاقت پر ، اسکے ارادوں پر سوچے بغیر اللہ کے دین کو اسکے اصل روپ میں رکھنے کی ذمہ داری حسینؑ نہ اٹھاتا تو کون دوسرا تھا جو " کیوں " کہے بغیر اٹھا لیتا ۔ کوئی بھی تو ایسا نہیں تھا جو سارے گھر کو ، بیٹے بیٹیوں ، بھتیجے اور بھانجوں ، بہن کو اور بھائیوں کو ۔ سارے ساتھیوں کو لیکر " لبیک " کہتے ہوئے دین بچانے چل پڑتا ۔ کوئی تھا ہی نہیں ، جو حسب سے ، جو نسب سے ، جو اصل سے اور جو نسل سے " حسینؑ " جیسا ہو ۔ حج پر سنت ابراہیمی ادا کرنے کا عزم تھا ۔ مگر اللہ کو ایک اور مثال قائم کرنا تھی ۔ جو کوئی دوسرا قیامت تک ادا نہ کر سکے ۔ سو راقب دوش رسولؐ " کیوں " کہے بغیر رضائے خالق پر لبیک کہتے کربلا کے عازم سفر ہوگئے ۔
آزاد ھاشمی
٧ اگست ٢٠١٨
Tuesday, 21 August 2018
کربلا کیطرف
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment