" مانا کہ تم جیت گئے "
تحریک انصاف کے قائدین ، کارکن اور سپورٹر جس ذہنی وابستگی کے ساتھ تحریک کے ساتھ تھے ، جو تلخ و شیریں اس سیاسی معرکے کی یادیں ہیں ۔ وہ تازہ ہونگی ۔ جیت جانا اگر رعونت کی طرف مائل کر دے تو یہ ناکامی کیطرف بڑھنے والا پہلا قدم ہوتا ہے ۔ اگر عاجزی کیطرف کر دے تو یہ بردبار قیادت کی نشانی ہوتی ہے ۔ جو سیاسی پارٹیاں ، یا سیاسی لوگ انتقام کو اپنا لیں وہ نہ تو قوم کی خدمت کرتے ہیں اور نہ اللہ کی رضا حاصل کر پاتے ہیں ۔ مقصدیت انتقام کا حصہ بن جائے تو قوم کے ساتھ اس سے گھناونا کھیل ہو ہی نہیں سکتا ۔ ہوش اور جوش کبھی ایک دماغ میں اکٹھے نہیں رہ پاتے ۔ اسلئے یہ جیت ، دراصل اسوقت جیت کہلائے گی ۔ جب تحریک انصاف وہ سب کر دکھائے گی ، جس کا وعدہ کیا گیا ہے ۔ دانشمندی کا تقاضا ہے کہ جو ہار گئے اور جو کل تک حریف تھے ۔ آج کے حکمران کی ذمہ داریوں میں آ جاتے ہیں کہ انہیں بھی کوئی غیر آئینی ، غیر اخلاقی اور غیر مہذب طریقے سے آزار نہ پہنچایا جائے ۔ کوشش کی جائے کہ انہیں بھی قومی ترقی کے دھارے میں شامل کیا جائے اور خوشدلی سے کیا جائے ۔ تحریک پاکستان میں قائد اعظم نے کسی بھی پارٹی کو رد نہیں کیا ، جو تحریک کی مخالف تھیں ۔ جب پاکستان بن گیا تو جو پاکستان سے جڑ گیا ، اس سے کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا گیا ۔ مخاصمت میں الجھنے سے راستے مشکل ہو جاتے ہیں ۔ جو جیت گئے وہ اس فتح میں انہیں بھی حصہ دار بنانے کی کوشش کریں جو ہار گئے ۔ انکے زخم کریدنا ہر گز مہذب انداز نہیں ۔ یہ وقت کا تقاضا بھی ہے ، وطن کی ضرورت بھی اور اخلاقیات کا حصہ بھی ۔
ملکی مفادات کے خلاف جو ہوا ، وہ قوم کی امانت ہے ، قوم کے پاس آنی چاہئیے ، بہتر ہوگا کہ مفاہمت سے معاملات طے کئیے جائیں ۔ سیاسی مخالفین کو ننگا کرنے کی کوشش نہ کی جائے اور پوری طرح سے ہم آہنگی کا رویہ اپنایا جائے ۔ تاوقتیکہ جو لوگ ملکی مفادات کو نقصان پہنچانے کے ذمہ دار ہیں ، معاونت سے انکار نہ کر دیں ۔ شاید یہ جیت اور بھی بڑی جیت ثابت ہو ۔
آزاد ھاشمی
١٧ اگست ٢٠١٨
Sunday, 19 August 2018
مانا کہ تم جیت گئے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment