Tuesday, 21 August 2018

امریکہ اور پاک فوج کی ٹریننگ

"امریکہ اور پاک فوج کی ٹریننگ "
شاید کسی کو سمجھ آتی ہو کہ ہمارے اکثر کلیدی عہدوں پر بیٹھنے والے افسران کیلئے برطانیہ اور امریکہ کے کورسز کیوں لازم ہوتے ہیں ؟ فوج کے جنرل کیلئے بالخصوص یہ مرحلہ کیوں لازم ہوتا ہے ؟ ریٹائر ہوتے ہی جنرلز پاکستان چھوڑ کر انہی یورپی ممالک میں کیوں چلے جاتے ہیں ؟ جہاں پہلے سے انکے بچے اور اہل خانہ چین کی زندگی جی رہے ہوتے ہیں ۔ آخر یہ کھلواڑ کب سے ہے اور کب تک جاری رہے گا ۔ کیا ہم ذہنی پختگی کی اس حد تک نہیں پہنچے ،  جہاں ایک قوم اپنی بنیادی ضرورتیں خود پوری کر لیتی ہے ؟ اب امریکہ ناراض ہو گیا اور اب مروجہ تربیت دینے سے ہاتھ اٹھا لیا ہے ۔ ناراضگی کی شاید یہ وجہ ہے کہ ہم نے " ڈو مور " سے تھکن کا اظہار کر دیا ہے ۔ شاید ہم نے اپنے جوانوں کو امریکہ کی سلامتی کی آگ میں جھونکنے سے منفی رد عمل   کا اشارہ دیا ہے ۔ وہ طاقت جس کے سکول سے ہمارے جنرل پڑھتے رہتے ہیں ، کب چاہے گی کہ ہم سر اٹھا کے جیئیں ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ایک کمانڈو جنرل امریکہ سے اتنا خوفزدہ تھا کہ اس نے امریکہ کیلئے اپنے سارے راستے کھول دئیے ، اپنے فوجی اڈے اسکے لئیے کھول دئیے کہ وہ وہاں بیٹھ کر ہماری اچھی طرح تلاشی لے لے اور وقت پڑنے پر اسکا ہر نشانہ ٹھیک لگے ۔ کیا ہم ڈینگیں ہی مارتے  رہتے ہیں کہ ہم دنیا کی بہترین فوج ہیں اور اگر بہترین ہیں تو امریکہ ، برطانیہ سے کیا سیکھنے جاتے ہیں ؟ یہ " سیکھنے " کا عمل صرف فوج تک محدود نہیں بلکہ ہمارے گریڈ انیس کے بعد والے اکثر سول افسران بھی اسی یاترا پر جاتے رہتے ہیں ۔ کیا سیکھتے ہونگے ؟ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جیسے ہی ریٹائر ہوتے ہیں ، ایسے تمام سول افسران بھی انہی ممالک کا بسیرا اختیار کر لیتے ہیں ، جہاں سے " سیکھنے " کی تربیت لی ہوتی ہے ۔ کیا قومی طور پر اسی سلسلے کو پذیرائی ملتی رہنی چاہئیے یا ہمیں خود انحصاری کی طرف لوٹنا چاہئیے ۔ آج یوم آزادی ہے اور ہمیں یقین کرلینا ہو گا کہ ہم آزاد قوم بن گئے ہیں ۔
آزاد ھاشمی
١٤ گست ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment