" کچھ ذمہ داریاں بانٹنی ہونگی "
دنیا میں جتنی بھی قومیں زوال سے عروج کی طرف بڑھی ہیں ، ان میں قیادت کا بہت مثبت کردار رہا ہے ۔ مگر قوموں کی تقدیر اسی وقت بدلتی ہے جب قیادت کا بھر پور ساتھ دیا جاتا ہے ۔ ہم بحیثیت قوم اگر خود کو بدلنے پر متحرک نہ ہوئے تو کوئی " چمتکار " نہیں ہوگا ۔ ہماری قومی غربت کے اسباب کیا ہیں ۔ ان میں صرف چند ہیں جن پر نظر مرکوز ہے ۔ بہت سارے ایسے اسباب ہیں ، جن پر توجہ نہیں ہے ۔ ملک کو خوب لوٹا گیا ۔ ناقابل تردید حقیقت ہے ۔ اسکے علاوہ بھی بہت سے سوراخ ہیں ، جہاں سے ہمارے وسائل اور اثاثے چوری ہوتے ہیں ۔ ہم سامان آسائش کی درآمد پر ایک کثیر حصہ دوسرے ملکوں کو دے دیتے ہیں ۔
ہم مشروبات درآمد کرتے ہیں ،
ہم کاسمیٹکس درآمد کرتے ہیں ،
ہم فرنچائز فوڈ کو ترجیح دیتے ہیں ، خام پیداوار سستے داموں بیچ کر تیار شدہ اشیاء مہنگے داموں خریدتے ہیں ۔ ایسی بیشمار حماقتیں ہیں جو ترقی کی طرف گامزن قوموں نے چھوڑ رکھی ہیں ۔ وہ اپنے وسائل پر انحصار کرتے ہیں ۔ جو خود بنا سکتے ہیں اسکا متبادل نہیں خریدتے ۔ چین کی ترقی کا راز یہی ہے کہ انہوں نے کسی غیر ضروری چیز پر اپنا زر مبادلہ کبھی ضائع نہیں کیا ۔ جس جس چیز کی ضرورت تھی ، خود بنائی ۔ اگر ہم بحیثیت قوم ان عیاشیوں سے باز نہیں آتے تو ترقی کا سفر مشکل ہی رہے گا ۔ کیا ہم اپنی اپنی سطح پر یہ ذمہ داریاں بانٹنے پر تیار ہیں ۔ جو لوگ صرف عمران خان کی سادگی پر تالیاں بجا رہے ہیں ، کیا انہوں نے خود بھی عمل کرنے کا ارادہ کیا ہے ؟ اگر ہاں ، تو یقین کر لیں کہ قوم کی تقدیر بدلے گی ۔ اگر نہیں ، تو منافق قومیں کبھی ترقی نہیں کرتیں ۔ شاید یہ کڑوی بات نازک طبائع کو بری لگی مگر حقیقت یہی ہے ۔
آزاد ھاشمی
٢١ گست ٢٠١٨
Tuesday, 21 August 2018
کچھ ذمہ داریاں بانٹنی ہونگی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment