" ذالحجہ کا چاند "
ذالحجہ کا چاند حضرت ابراہیم علیہ السلام کے جگر گوشہ کی قربانی مانگنے کا چاند طلوع ہوا ۔ ابراہیم علیہ السلام کی استقامت کا امتحان مقصود تھا ۔ اللہ کی رضا پر اپنے جگر گوشہ کی گردن پر چھری رکھنے کا کٹھن امتحان ۔ اس پر اللہ کے خلیل کا لبیک کہنا ، ہی مطلوب تھا ۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جان لینا مقصد نہیں تھا ۔
آج اسی " لبیک " کی یاد پر ، اسی سنت کی ادائیگی کے جذبے سے ہم اللہ کے گھر کا طواف کرتے ہیں ۔ دنیا کے کونے کونے سے لبیک لبیک کہتے ہوئے ، اللہ کے گھر کی طرف محو سفر ہوتے ہیں ۔
اب یہ لبیک سنت کی ادائیگی تک محدود ہو گیا ہے ۔
لبیک اصل میں اللہ کی اطاعت ، بغیر کسی تمہید و تفصیل کے ، ہر حکم پر لبیک ہے ۔ جو اللہ نے فرمایا لبیک ۔ جو اللہ چاہتا ہے لبیک ۔ صرف لبیک ۔ کوئی سوال ، کوئی عذر کچھ قبول نہیں ۔ صرف لبیک ۔
آئیے ! اب جائزہ لیتے ہیں کہ ہمارا لبیک اللہ کی رضا سے کتنا قریب ہے ۔ ہم نے کتنے حکم مانے اور کتنے ضروری نہیں سمجھے ۔
لبیک زبان سے کہے ہوئے دو لفظ نہیں ، لبیک دل سے ماننے اور عمل کر دکھانے کا نام ہے ۔ گائے ، اونٹ ، بکری ، بھیڑ کی قربانی کر دینے سے " لبیک " نہیں ہو جاتا ۔ اللہ کی راہ میں ہر متاع عزیز ، جب بھی لازم ہو جائے قربان کر دینا " لبیک " ہے ۔
عمل سے کہا ہوا ہر لبیک قبولیت کی ضمانت ہے ۔ اور ہر ہر لبیک پر انعامات دینا اللہ کا وعدہ ہے ۔ ابراہیم علیہ السلام نے لبیک کہا ، اسمعیل علیہ السلام نے لبیک کہا ، اللہ نے انکی سلب میں کتنے انبیاء رکھ دئیے ۔ رحمتوں کا شمار نہیں جو ابراہیم علیہ السلام پر ہوئیں ۔
ایک ایسا ہی لبیک آل محمد صل اللہ علیہ وسلم سے حسین علیہ السلام نے کہا ۔ اسی ذالحجہ کے چاند پر ۔ آج رحمتوں کا شمار نہیں ۔ عبادت نہیں ہوتی جب تک آل ابراہیم ع پر اور آل محمد ص پر درود نہ بھیج لیں ۔
ازاد ھاشمی
24 اگست 2017
Saturday, 25 August 2018
ذالحجہ کا چاند
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment