Saturday, 25 August 2018

جی صاحب

" جی صاحب "
ہم نے سکول اور کالج کا زمانہ ایک ساتھ گزارہ ، شہر میں بھی گپ شپ ہوا کرتی تھی ۔ ہمارے دوستوں میں " جی صاحب " واحد تھے جو کسی نہ کسی سے پنگا لئے رکھتے تھے ۔ شرارتوں میں اسکا کوئی ثانی نہیں تھا ۔ بھلا سا نام تھا ، یہاں ذکر مناسب نہیں ۔ شادی سے پہلے تک اسکا اصلی نام ہی مروج تھا ۔ پھر ایک نیا نام شہر کے بچے بچے کی زبان پر آگیا ۔ جس سے وہ چڑنے لگا تھا ۔ کسی کو خبر بھی نہیں تھی کہ وہ " جی صاحب " کہنے پہ اتنا تلملا کیوں جاتا ہے ۔ وقت گذرتا رہا اور " جی صاحب " دوستوں سے کٹنے لگا ۔ ایک بڑا افسر بھی بن گیا ، دوستوں نے سوچنا شروع کر دیا کہ عہدے نے اسکا دماغ چھت پہ چڑھا دیا ہے ۔ اب دوست بھی اسکی پرواہ کرنا چھوڑ گئے ۔ مگر کوئی بھی با خبر نہیں تھا کہ معمہ کیا ہے ۔ ایک وجہ یہ بھی تھی شاید کہ اسکی بیوی بھی ایک بڑی افسر تھی اور تھی بھی بڑے گھر سے ۔ یقین کر لیا گیا تھا کہ بس تکبر نے اسے دوستوں سے دور کر لیا ۔ آخر بچپن اور لڑکپن کی دوستی نے سب کو زچ کر دیا کہ اس  سے اس بے اعتناعی سبب معلوم کریں ۔ سب اسکے گھر پہ ایک ایک کر کے جمع ہوگئے ۔ اس نے بھی ثابت کر دیا کہ وہ نہ متکبر ہے اور نہ دوستوں سے بیزار ۔ اس کا مرض " جی صاحب " کا لفظ ہے ۔ سب نے وعدہ کر لیا کہ اب کبھی اسے " جی صاحب " نہیں کہیں گے ۔ اسکا اصلی نام ہی پکاریں گے ۔ گپ شپ جاری تھی کہ آواز آئی ۔ شاید افسر بھابھی کی ہی تھی ۔ آواز میں دبدبہ سا تھا ۔  ہمارے دوست کے منہ سے اچانک ، بے خیالی میں نکلا ۔
" جی صاحب "
اب جی صاحب کی اصلیت کھل گئی ۔ کہ محترم بھابھی کو " جی صاحب " کہتے ہیں ۔ خود " جی صاحب " نہیں ہیں ۔ اسلئے اس نام سے چڑتے ہیں ۔ ایک اور مژدہ کھلا کہ اب گھر کے نوکر بھی " صاحب بہادر " کی تقلید کرتے ہیں اور سب بیگم صاحبہ کی بجائے ، بھابھی محترمہ کو " جی صاحب " ہی کہتے ہیں ۔ اور موصوف کو صرف " جی " تک محدود کر دیا گیا ہے ۔  یہ واقعی چڑنے کی بات تو تھی ۔ اب بیچارے
" جی صاحب " کو شہر ہی چھوڑنا پڑے گا ۔ کیونکہ بچپن کے دوست بہت بھلے نہیں ہوتے ۔
آزاد ھاشمی
٢٥ اگست ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment