" اباجی کے نوکر "
نظام حکومت کو پٹڑی پر رکھنے کیلئے اداروں کی تشکیل دی جاتی ہے . ان اداروں کے ملازمین کی تنخواہیں عوام کو دینا پڑتی ہیں , انکے عشوے عوام پورے کرتے ہیں , جس حکومتی خزانوں سے یہ ادائیگی ہوتی ہے , وہ حکومتی خزانے عوام کی جیبیں کاٹ کر بھرے جاتے ہیں .
مگر یہ تمام ملازمین سیاسی پنڈتوں کی خدمت پر اسطرح جٹے رہتے ہیں , جیسے ان سیاسی مداریوں کے " کمی کمین " ہوں . جیسے اباجی کے نوکر ہوں اور اولاد کو پورا حق ہو کہ جیسے چاہے خدمت لے , جیسے پرانے زمانے کے غلام ہوں کہ آقا کی ایک جنبش نظر پر قربان ہو جانا , حق غلامی ہے .
خرابی مقتدر سیاستدانوں کی ہی نہیں , ان تمام اداروں کے ملازمین کی ہے , جو ملک کی خدمت کو ثانوی رکھتے ہیں اور آقاوں کی غلامی کو اولیت دیتے ہیں . یہ بڑے بڑے رعب و داب والے افسران , ان مقتدر لوگوں کے آگے ہاتھ باندھے یوں کھڑے نظر آتے ہیں , جیسے چور تھانیدار کے سامنے . معیوب سی بات نہ ہو تو شاید مناسب ترین لفظ ہے " دم دبا کر کھڑے ہوتے ہیں "
کوئی تو ہو جو یہ سمجھ لے کہ یہ وطن ان سیاستدانوں کے باپ کی جاگیر نہیں , یہ میرا بھی وطن ہے اور تیرا بھی . وطن کی چاکری فرض ہے , سیاستدانوں کی نہیں . یہ میری اور تیری دھرتی ماں ہے . اسکی کھوکھ سے میں بھی زندگی پاتا ہوں تو بھی . ان سیاسی لوگوں کی خوشی اور مقاصد کے لئے وطن کو بھول جانا , دھرتی ماں سے سرکشی ہے , جرم ہے , گناہ ہے .
یہ بات میں ان تمام ابا جی کے نوکروں سے کر رہا ہوں , جو اپنے فرائض سے زیادہ " صاحب کی غلامی " کو اہمیت دیتے ہیں . یہ کمشنر , پولیس کے افسران , عدلیہ کے عادل اور انتظامیہ کے بڑے بڑے جاہ و حشمت والے لوگ جاگ گئے تو سب ٹھیک ہو سکتا ہے . اے کاش ! انکو اپنے حلف سے وفا کی عادت پڑ جائے , تو سب ٹھیک ہو جائے گا . اے کاش ! ابا جی کے نوکر وطن کے نوکر ہو جائیں . دوستوں سے عرض کرتا ہوں کہ ان اباجی کے نوکروں کو یہ پیغام پہنچا دیں , شاید دو چار , آٹھ دس اور سو دو سو ہوتے ہوتے سب ایک ہو جائیں .
آزاد ہاشمی
Thursday, 10 August 2017
اباجی کے نوکر
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment