"احمقانہ تجزئے اور تبصرے "
ایجینسیوں کا کیا قصور ، وہ تو پہلے سے اگاہ کر دیتی ہیں کہ دھماکہ ہونے والا ہے ۔ انکو تو تنخواہ اسی خبر گیری کی ملتی ہے ۔ بس وہ اپنا فرض پوری مستعدی سے انجام دے رہی ہیں ۔ اب جن کی موت لکھی جا چکی تھی انہیں تو مرنا ہی تھا ۔ سو وہ مر گئے ۔ اچھا ہے کسی کافر کے ھاتھوں نہیں مرے ۔ اپنے مسلمان بھائیوں نے ہی مارا ہے ۔
یہ چند سطور کسی دیوانگی سے نہیں لکھ رہا ہوں ۔ یہ آنے والے مستقبل قریب کے تبصرے ہیں ، جو میڈیا پر بولے جایا کریں گے ۔ سیاستدان ، اتنے بے شرم ہو جائیں گے ، سننے والے بے حس ہو جائیں گے ۔ اور موت کا راج ہو جائے گا ۔ یہ ہر اس قوم کی قسمت ہوا کرتی ہے ، جو بزدل ہو جاتی ہے ۔ جسے اپنے حقوق یاد ہی نہیں رہتے ۔ جو ظلم سے مفاہمت کر لیتے ہیں ۔
کس کو یاد ہے ، یہ جو ٹیکس ہم دیتے ہیں ، اس کا کتنے فیصد حکمرانوں کی عیاشیوں پر خرچ ہوتا ہے اور کتنا عوام کی حفاظت اور فلاح پر ۔ یہ کونسا عدل ہے کہ جن کی ذمہداری عوام کو تحفظ دینا ہے وہ خود اپنی حفاظت کی فکر میں لگے رہتے ہیں ۔ پولیس کا ہر اعلیٰ افسر باڈی گارڈ کے بغیر گھر سے نہیں نکل سکتا ، تو پھر دہشت کی فضا کیسے ختم ہو گی ۔ ہم نے خود نااہل لوگوں کو اپنے سروں پر مسلط کیا ، ہم نے خود عدل کا راستہ چھوڑ کر کافروں کا قانون اپنا لیا ۔ اب تمام تجزئیے اور تبصرے حماقت ہیں ۔ کچھ نہیں ہو گا ۔ فوج اور عدالتیں ایک امید تھیں ، دونوں حکمرانوں کی کاسہ لیسی کریں گے تو امن و امان کہاں سے آئے گا ۔ بیسیوں لوگ ایک دھماکے کی نظر ہو جاتے ہیں ، میڈیا پر چیخ و پکار شروع ہو جاتی ہے اور پھر خاموشی ۔
اللہ کا رحم مانگنا روایت بن گئی ، سوچنا چھوڑ دیا کہ اللہ رحم کیوں نہیں کرتا ۔ اللہ کو راضی کرنے کی فکر ہی ختم ہو گئی ۔
شکریہ
ازاد ہاشمی
Sunday, 9 April 2017
احمقانہ تجزئے اور تبصرے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment