" باب العلم علی کرم اللہ وجہہ "
اللہ تعالیٰ سے شیطان مردود ، بضد تھا کہ آدم کی تخلیق زمین پر فساد کا باعث ہو گی ۔ اللہ نے آدم علیہ السلام کی فوقیت کیلئے کچھ علم سکھا دیا ، جو فرشتے نہیں جانتے تھے ۔ گویا علم انسان کی معراج کا ثبوت ہوا کرتا ہے ۔ اسی علم کی بنا پر انبیاء کی فضیلت مقدم ہوتی ہے اور وہ عام انسانوں سے بلند مقام پر فائز ہوتے ہیں ۔ اللہ نے اپنے تمام علوم کا کمال قران کو بنایا اور یہ قران اپنے حبیب پر نازل فرما دیا ۔ علم اللہ کی امانت ، قران اللہ کی امانت ، کائنات کے امین کے سپرد کر دی ۔ ایسی ہستی ، جس کی امانت داری کے دشمن بھی معترف تھے ۔ امانت داری کی معراج کی گواہی ، وہ شب ہے جب اللہ کے نبی کے پاس ہجرت کے سوا کوئی چارہ نہیں اور وقت بھی نہیں کہ لوگوں کی امانتیں واپس کی جا سکیں ۔ حکم ربی بھی ہے کہ ہجرت کی جائے ، امانت داری کا تقاضا بھی کہ امانتیں واپس لوٹائے بغیر نہ نکلا جائے ۔ ایسے میں ایک ایسے امین کی تلاش ، جو نبی کی امانت داری کا امین ہو ۔ نبی کے بستر مبارک کے تقدس کا اہل ہو ، جسے نبی پاک جان سے زیادہ عزیز ہو ، جس کی فراست نبی پاک کی فراست کے قریب تر ہو ، جس پر نبی کا اعتماد کامل ہو ، جس کے تقرر پر اللہ کی تائید حاصل ہو ۔
وہ باب العلم علی کرم اللہ وجہہ تھے ، جنہیں علم کی وہ میراث بھی نصیب تھی ، کہ اللہ کے حبیب نے اعلان فرمایا
انا مدینتہ العلم و علی بابہا
آج اسی ہستی کا یوم پیدائش ۔ اسی جگہ جہاں پاکیزگی اور طہارت کا تصور اپنی پوری معراج پر ہے ۔ اللہ کے گھر میں ، کائنات کے امین کے امین کی آمد کا دن ۔ مبارک دن ہر اس کے لئے ، جسے رسول خدا سے محبت ہے اسے اس مولود کعبہ سے بھی محبت کا ہونا لازم ٹھہرا ۔
ازاد ہاشمی
Thursday, 13 April 2017
باب العلم
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment