Tuesday, 11 April 2017

قران مبین

" قرآن مبین "
اللہ کریم کا دعویٰ ہے کہ قرآن ، آسان ، مفصل ، واضع اور مکمل کتاب ہے ۔ جو ہر کجی ، شک اور نقص سے قطعی مبرا ہے ۔  یہ دعویٰ اللہ کا ہے ، جس پر کسی سوال کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی ۔ اللہ نے ان تمام امور کا حل بھی فرما دیا جو ناقدین اٹھاتے رہیں گے کہ اطاعت رسول صل اللہ علیہ وسلم سے رہنمائی حاصل کرو ۔
اللہ نے قرآن کو سمجھنے  کے طریقے بھی واضع فرما دئے کہ قران پڑھو ، اس پر فکرکرو ، اور ایسے پڑھو جیسے پڑھنے کا حق ہے ۔ تدبر اور غورو فکر  لازمی حصہ ہیں ۔ 
ہماری مذہبی تربیت میں ثواب کا تصور قائم ہو چکا ہے ۔ ہم قران کو عموماً ثواب کے لئے پڑھتے ہیں ، اسکی تعلیمات کو سیکھنے کی غرض مفقود ہوتی ہے ۔ یا پھر ثانوی سوچ یہ رہ جاتی ہے کہ قران پاک کی کونسی آیات کس مسئلہ کا حل ہے ، کونسا وظیفہ کرنے سے دنیاوی آسائشوں کی راہ کھل جائے گی ۔  اس میں قطعی دوسری رائے نہیں کہ اللہ کی مبارک کتاب سے ملنے والی ہدایت سے ہر حل طلب مسئلہ حل ہو جاتا ہے ۔
ایک تصور کہ علماء کرام کی تفاسیر ، دیگر تشریحی کتب کے بغیر قرآن کو سمجھنا ممکن ہی نہیں ۔ قرآن کا تفصیلی مفہوم جاننے کے لئے کسی کتاب کی معاونت حاصل کرنا یا کسی عالم سے استفادہ کرنا ، ایک احسن قدم ہے ، شرط صرف اتنی ہے کہ سیکھنے والا اور سکھانے والا ، دونوں ہی کسی بھی مخصوص  مسلک کی عینک استعمال نہ کریں ۔  یہ تصور قائم کر لینا کہ قرآن کو سمجھنا  نا ممکن ہے  ،  قرآن کی  شان میں گستاخی بھی ہے اور تحقیقاتی کمزوری بھی ۔ دنیا میں قرآن سے زیادہ نہ کوئی کتاب مفصل ہے ، نہ واضع ، نہ علوم عالم پہ مستند ، نہ آسان اور نہ ہی عام فہم ۔
اگر یہ کہا جائے کہ قرآنی تعلیمات کی تشریح و تفسیر نے بہت سارے اختلافی مسائل پیدا کر دئیے ہیں ۔ جن کا حل بھی صرف قرآن سے ہی ملے گا ، صرف تحقیق کی ضرورت ہے ۔ تو غلط نہ ہو گا ۔
ہمیں اپنی اپنی فہم و فراست کے مطابق قرآن کو سیکھنے ، سمجھنے کی ہر ممکن سعی کرنا چاہئے ۔ یہ ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ قران سیکھے بھی اور سکھائے بھی ۔
اللہ ہم سب کو توفیق بخشے ۔ آمین
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment