Sunday, 5 August 2018

اصل صدقہ

" اصل صدقہ "
سڑک کی ایک طرف خالی سی جگہ پر ، ایک جھکی کمر والا بوڑھا ، گود میں آٹھ دس سال کا بچہ بٹھائے ہوئے تھا ۔ دونوں کا لباس ، چہرے اور بکھرے بال بتا رہے تھے کہ لمبے سفر کی مسافت  کی تھکن سے چور ہیں ۔ خاموشی سے نظریں جھکائے بیٹھا بوڑھا ، نہ کسی کیطرف دیکھ رہا تھا اور نہ کچھ مانگ رہا تھا ۔ انکے چہرے پر ضرورت بول رہی تھی مگر زبان گنگ تھیں ۔
" یہاں کیوں بیٹھے ہیں بابا جی ؟ " ایک راہ گیر نے قریب ہو کر پوچھا ۔ بوڑھا خاموش تھا ۔
" کہاں سے آئے ہیں ؟ کہاں جانا ہے " دوسرا سوال بھی جواب سے محروم تھا ۔ البتہ دوسرے سوال سے بوڑھے شخص کی آنکھ برس پڑی ۔
" باو جی ! بہت بھوک لگی ہے ۔ پیاس بھی " گود میں بیٹھا بچہ بول پڑا ۔
" دادا بھی بھوکا ہے ۔ نہ مانگتا ہے نہ مانگنے دیتا ہے " بچہ رو پڑا ۔
" کہتا ہے ہم سید ہیں ۔ سید ہاتھ نہیں پھیلاتے ۔ تو کیا ہم بھوکے مر جائیں بابو جی " بچے نے بلکتے ہوئے کہا ۔ راہ گیر نے بچے کے سر پہ ہاتھ رکھا ۔
" بیٹا ! دادا جان ٹھیک کہتے ہیں ۔ جب بیٹے زندہ ہوں تو باپ مانگتے اچھے بھی نہیں لگتے "
راہ گیر نے بوڑھے کے قدموں پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔
" اٹھیں بابا جان ۔ میں آپ کا بیٹا ہوں ۔ اپنے گھر چلیں ۔ بیٹے کے گھر ۔ آپ کی بہو بھی ہے اور دوسرے پوتے پوتیاں بھی ۔ یہ بھی آج سے میرا بیٹا ہے "
راہ گیر ہاتھ جوڑ کر بولا ۔
" بیٹے کی بات مان لیں بابا جان "
وہ اللہ کی دی ہوئی استطاعت سے ان کو ساتھ لیجانے میں کامیاب ہو گیا ۔
آزاد ھاشمی
٤ اگست ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment