" جماعت کا کردار "
بہت دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ جماعت کے تمام ارکان ، ذمہ داران اور دانشور لوگوں نے عمران خان کی دشمنی میں ، جو بندوق کندھے پہ رکھ لی ہے ۔ اور جس شدت سے سوشل میڈیا پر اشتہار بازی شروع کر دی ہے ۔ وہ جماعت کو منفی کردار کی جماعت کا تاثر دینے لگی ہے ۔ جماعت کی یہ سوچ دیکھ کر بہت آسانی سے اندازہ ہو جاتا ہے ، کہ وہ قطعی طور پر مایوس ہو گئے ہیں ۔ شکست کا اتنا گہرا اثر لینا ، نہ صرف سیاسی نا پختگی ہے ، بلکہ اقتدار کی ہوس کی انتہا ہے ۔ اراکین ، جن سے نفاست طبع اور اخلاقیات سیکھی جاتی تھی ، اب بازاری لب و لہجہ پر اتر آئے ہیں ۔ یہ رویہ لوگوں کو متاثر نہیں بلکہ متنفر کرے گا ۔ آج ایک محقق " خلافت " کے خلاف بول رہے تھے اور پورے دلائل دے رہے تھے کہ خلافت کا سوچنا ہی دانشمندی نہیں ۔ یہ وہ سوچ ہے جو جماعت کو دوسری لبرل پارٹیوں کی صف میں لے آئے گی ۔ خلافت کی بات نہ سہی ، اسلامی نظام کی بات کرنے میں کیا تردد باقی ہے ۔
عرض یہ تھی کہ اس غم کو اتنا دل پہ مت لگائیں ، اگر عمران خان کو لایا گیا ہے تو بھی صبر کریں ۔ ہو سکتا ہے لانے والوں کے پاس اس سے بہتر متبادل ہی نہیں تھا ۔ اگر لانے والے اسے لے آئے ہیں ۔ تو جیسے پہلے " لائے جانے " والوں کو برداشت کیا کرتے تھے ۔ اسے بھی برداشت کر لیں ۔ ہو سکتا ہے لانے والوں کا یہ فیصلہ بہتر ہو ۔ خدا را ، اپنے چہرے کا اچھا نقاب نوچ کر مت اتاریں ۔ جو چہرہ آپ پہننے جا رہے ہیں وہ جماعت کو ہمیشہ کیلئے ناکامی دے جائے گا ۔
ہو سکے تو کمنٹ دینے سے پہلے ، تحریر کا مفہوم ضرور سمجھ لیں
آزاد ھاشمی
٧ اگست ٢٠١٨
Wednesday, 8 August 2018
جماعت کا کردار
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment