Thursday, 9 August 2018

کونسا اسلام

" کونسا اسلام "
ایک زیرک صاحب علم و دانش ہیں جو سوال کرتے ہیں
"اگر اسلام کی بات کریں تو پہلے یہ بتا دیں کہ کونسا اسلام؟ وہابی؟ دیوبندی سنی؟شیعہ؟بریلوی؟توحیدی؟ قبرپرست؟سہروردی؟ وردی؟بغیروردی؟ میٹھے میٹھے بھائی؟ کڑوے بھائی؟ کھٹے؟ پھیکے؟ عطاری ؟مداری؟ وغیرہ وغیرہ-
  پہلے بتائیں ان میں سے کس کا اسلام اور اسلامی انقلاب پھر اپنی رائے بھی ضرور دونگا "
سوال کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ موصوف نے جس حقارت سے مختلف مسالک کے لوگوں کا ذکر کیا ہے ۔  یہ کسی بھی مسلمان کو قطعی زیب نہیں دیتا ۔ یہ دل آزاری کی بات ہے ، جو اسلام میں اجازت نہیں ۔ جب ہم اسلام کی بات کرتے ہیں ، تو ہمارا تقابل مسالک سے نہیں ، مذاہب سے ہوتا ہے ۔ جب ہم اسلام کے نظام کی بات کرتے ہیں تو ہم عیسائیت ، یہودیت ، بدھ مت ، ہندو ازم ، دہریت اور الحاد وغیرہ سے تقابل کرتے ہیں ۔ جب ہم اسلام کی بات کرتے ہیں تو وہ نظام ، وہ لائحہ عمل ، وہ دستور ہوتا ہے جو اللہ نے ہمیں قرآن کی شکل میں عطا کیا ۔ جب ہم اسلام کی بات کرتے ہیں تو ہمارا رہنماء پوری کائنات کا ہادئی برحق ہوتا ہے ۔ یہ ہے اسلام ۔ جب اسلامی انقلاب کی بات ہوتی ہے تو وہ انقلاب جو یزیدیت کے خلاف لایا گیا ۔ وہی انقلاب آج کی یزیدیت کیلئے ضروری ہے ۔
رہ گئے یہ مسالک ، تو کونسا مسلک ہے جو قرآن کا منکر ہے ، جو اطاعت رسول سے باہر ہے ۔ فروعی مسائل کا ہونا ، اسلام کی ناکامی نہیں ہے ۔ ان سب کو ہوا دینا ، دماغ کا خلجان ہے ۔ کوئی بھی باشعور ان معاملات کو اسلام کی ناکامی پر محمول نہیں کر سکتا ۔
ہمیں اخلاقی حدود میں رہ کر اپنی رائے زنی کرنی چاہئیے ۔ کسی مسلک کے کسی بھی پیروکار کو زیب نہیں دیتا کہ وہ دوسرے مسلک کو اس تحقیر سے بلائے کہ فساد کی راہ کھل جائے ۔ یہ ہے اسلام اور یہ ہے اسلامی انقلاب ۔
آزاد ھاشمی
٩ اگست ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment