Sunday, 5 August 2018

وطن کی ضرورت کیا ہے

" وطن کی ضرورت کیا ہے "
ہم جہاں جہاں ہیں ، جو جو بھی مسلکی ، سیاسی ، لسانی اور علاقائی وابستگیاں ہیں ۔ ان سب کو برقرار رکھتے ہوئے بھی ، ایک ذمہ داری ان سب پر حاوی ہے اور وہ ہے
" وطن کی ضرورت کیا ہے "
وطن ہماری پہچان بھی ہے ، ہماری عزت اور توقیر بھی اور ہر دشمن سے ہماری ڈھال بھی ۔
صرف قوم بننے سے وقار حاصل ہو سکتا ، گروہوں کی نہ کبھی عزت بنتی ہے اور نہ کبھی مقام ملتا ہے ۔
انتخاب ایک معرکہ تھا ، ہر کسی نے دل کھول کے سیاست کی ، بہتان بازی بھی ہوئی ، کردار کشی بھی ، حقائق بھی قوم کے سامنے آئے ۔ صحافت کے پول بھی کھل گئے اور سیاست کے بھی ۔ بہت سارے پرانے سیاسی بت ملول بھی ہیں اور شکایت بھی کرتے ہیں کہ انکی سیاسی وراثت سازش سے چھینی گئی ۔ سچ اور جھوٹ کے مخمصے میں پڑے بغیر اب دیکھنا یہ ہے کہ میرے وطن کی کیا ضرورت ہے ؟ کیا ہم اس کھینچا تانی کے متحمل ہیں ؟ کیا اسی رحجان سے کبھی وطن ترقی کر پائے گا ؟ میں اس وقت گھانا میں ہوں ، یہاں گذشتہ حکومت پر الزام تھا کہ اس نے دھاندلی کی ، ثبوت بھی تھے ، مخالف پارٹی کورٹ گئی ، کورٹ نے فیصلہ کیا کہ بہت سارے حقائق ثابت کرتے ہیں کہ دھاندلی ہوئی ، مگر ملک دوبارہ انتخاب کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ اسلئے یہی حکومت اپنی مدت پوری کرے گی ۔ نئے انتخاب اپنے وقت پر ہی ہونگے ۔ عدالت کا فیصلہ تسلیم ہوا ، کسی ایک شخص نے اس پر کچھ نہیں کہا اور نہایت بردباری سے وطن کی ضرورت کو اولیت دی ۔ کیا ہم اس بردباری کا مظاہرہ نہیں کر سکتے ؟ کیا ہمارے ملک کو امن اور آشتی سے چلانے کیلئے پانچ سال برداشت نہیں کیا جا سکتا ؟ کیا ہم اسقدر مفاد پرست ہیں کہ اپنی " بوٹی " کیلئے وطن کی " گائے " ذبح کر دینا جائز خیال کرتے ہیں ۔ اب یہ کام پوری قوم کا ہے ، کہ وطن کی خاطر اس " غلط یا صحیح " فیصلے کو قبول کرے ۔ قوم نتائج دیکھ کر خود احتساب کر لے گی ۔ وطن کیخاطر کھلے دل سے موقع دیا جائے کہ جو دعوے جیتنے والوں نے کئے ، اسے پورا کریں ۔ کون نہیں چاہے گا کہ " مدینہ " کی ریاست قائم ہو جائے ۔ کون نہیں چاہے گا کہ ہمارے پاسپورٹ کو عزت ملے ۔ کون نہیں چاہے گا کہ ہماری گروی نسلیں آزاد ہو جائیں ۔ کیا برا ہے اگر انصاف قائم ہو جائے ۔ ان دعووں کو آزما لینے میں کیا حرج ہے ۔ انکے سامنے کھڑے ہو جانے سے بہتر ہے کہ انکے ساتھ کھڑے ہو جائیں ۔ اگر قوم چاہے تو چند متشدد طبیعت کے فسادی لوگ خود بخود خاموشی اختیار کرنے پر مجبور ہو جائیں گے ۔
میرا اور آپ کا فرض ہے کہ ہم پہلے وطن کا سوچیں ، پھر اپنی سیاسی وابستگی پر توجہ کریں ۔ اگر یہ پیغام ضروری لگے تو اپنے اپنے حلقہ احباب میں اسے پھیلائیں ۔ یہ میرے اور آپکے وطن کی ضرورت ہے ۔
آزاد ھاشمی
٣ اگست ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment