Thursday, 9 August 2018

بڈھا ہوئے گا تیرا پیو

" بڈھا ہوئے گا تیرا پیو "
زندگی کے بوجھ کو اگر اعصاب پر سوار نہ کیا جائے تو انسان کبھی بوڑھا نہیں ہوتا ۔  اسکی ہمت کبھی نہیں ٹوٹتی ۔ بابا نورا ، میرے شہر کا ایسا ہی ایک کردار تھا ۔ وہ سخت گرمی میں کلفی فالودہ بیچا کرتا تھا ۔ بچے اسکے گہرے دوست تھے ۔ جس بچے کے پاس پیسے نہیں ہوتے تھے ، جب وہ بچہ اسے حسرت بھری نگاہ سے دیکھ لیتا ، وہ اسے پاس بلاتا اور کلفی فالودہ دے کر بولا کرتا ۔
" اوئے تیرا پیو ، وی میرا مقروض اے ۔ اوہ وی مفت فالودہ کھاندا سی "
بابے نورے کی اپنی ایک ہی بیٹی تھی ، لوگ بتاتے ہیں کہ شہر میں بہت زور کی بارش ہوئی تھی ۔ بابے کا کچا گھر گر گیا تھا ، جسکی چھت تلے اسکی بیٹی اور بیوی دونوں دب گئیں ۔ اب بابا پوری دنیا میں اکیلا تھا ۔ یہی شہر کر بڑے اور بچے اسکا خاندان تھا ۔ اکثر دیکھا گیا کہ ، جب کسی بھی بچی کو دیکھتا تو اسکے آنسو بہہ نکلتے  ۔ جسے وہ اپنی پگڑی کے پلو سے یوں صاف کرتا جیسے پسینہ سکھا رہا ہو ۔ وہ کلفی فالودہ بیچتا نہیں بانٹتا پھرتا تھا ۔ بچہ جو بھی اسکے ہاتھ پہ رکھ دیتا وہ دیکھے بغیر جیب میں ڈال لیتا اور پلیٹ بھر کر بچے کے حوالے کر دیتا ۔ گلی محلے کی ہر خاتون اسکی بیٹی اور ہر عمر رسیدہ اسکی بہن تھی ۔ کسی کو بھی دیکھ لیتا تو آواز دیتا ۔
" او چڑیل ! آج فالودہ نہیں کھائے گی " پلیٹ بھرتا اور دے دیتا ۔
" کھا ۔ تیرے پیو دا قرضہ دینا سی ۔ ادا ہو گیا "
ریہڑھی کے ساتھ بندھی ہوئی گھنٹی کی آواز ہر کان کو بھلی لگتی تھی ۔
" بابا ! سارا دن فالودہ بانٹتے ہو یا بیچتے ہو ؟ کیا فائدہ ہے اس محنت کا "
ایک بار میں نے پوچھا تھا ۔
" اوئے چورا ! بابا کسے کہہ رہے ہو ؟ بابا ہو گا تیرا باپ ۔ فیر پچھیا تے کن مروڑ دیاں گا " بابا ایسے ہی اردو بولتا تھا ۔ ایک آدھ فقرہ اردو باقی پنجابی ۔ شہر میں ہر کوئی فالودہ کھانے کے بعد ضرور کہتا ۔
" بابا جی ۔ ہن بڈھے ہو گئے او " تو بابا جی بولا کرتے
" بڈھا ہوئے گا تیرا پیو ۔ تیرا دادا ۔ تیرا پڑدادا "
اس جواب کی پیچھے ایک اپنائیت ہوا کرتی تھی ۔ ایک مسکراہٹ ہوا کرتی تھی ۔ ایک پیار ہوا کرتا تھا ۔
مجھے یاد ہے جس دن بابا نورا فوت ہوا ، پورا شہر اشکبار تھا ۔ فالودے والے کی ریہڑی کی گھنٹی ہمیشہ کیلئے خاموش ہو گئی تھی ۔ یوں لگا جیسے پورے شہر کا واحد بڈھا چلا گیا ۔
آزاد ھاشمی
٨  اگست ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment