" قوم کا مورال اور عوام کی ذمہ داری "
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ قوموں کی تنزلی اور ترقی میں " مورال " کا بہت اہم کردار ہوتا ہے ۔ دشمن نے جب کسی علاقے کو فتح کرنا ہوتا ہے ، تو جنگی اصول کے مطابق وہاں کے لوگوں میں شکست ڈال دی جاتی ہے ۔ اعصاب توڑے جاتے ہیں اور پھر فتح کرنے میں زیادہ تردد نہیں کرنا پڑتا ۔ مفتوح آسانی سے فاتح کو اپنا حکمران مان لیتے ہیں ۔ اگر مورال بلند ہو تو قومیں نسل در نسل دشمن کے قدم نہیں جمنے دیتیں ، بھلے دشمن کتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو ۔ ہمارے سامنے ویتنام ، شمالی کوریا اور افغانستان زندہ مثالیں ہیں ۔ ہر قوم کے دانشور اس میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہیں ۔ ذرائع ابلاغ کا کردار مثبت نہ ہو تو قوم کے اعصاب بہت جلد ٹوٹ جاتے ہیں ۔ کچھ جہلاء غیر ارادی طور پر ، یا دشمن سے ساز باز کے تحت ، یا اپنی عقل کے زعم میں ، قوم کے اجتماعی مفادات کو شکست و ریخت کا شکار کرتے رہتے ہیں ۔ انہیں ہر اچھی بات پر اپنی ذہانت کا رعب جمانے کیلئے تنقید کرنا ہوتی ہے ۔ ان کے ادراک میں بھی نہیں ہوتا کہ وہ قوم کی قسمت کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں ۔ اب ہم جس مرحلے میں ہیں ، کچھ لوگ قسم کھائے بیٹھے ہیں کہ اختلافات کو خوب ہوا دینی ہے ۔ آنے والے لوگوں کو ناکام کرنے کی ہر کوشش کرنی ہے ۔ طعن و تشنیع ، تضحیک میں کوئی کسر نہیں چھوڑنی ۔ اخلاقیات کا جنازہ نکالنا ہے ۔ یہی انکی حب الوطنی ہے ۔
کچھ جیت گئے ، کچھ ہار گئے ۔ نہ جیتنے والے دشمن ہیں اور نہ ہارنے والوں کو دشمنی کی صف میں لا کھڑا کرنا عقلمندی ہے ۔ دونوں کی حب الوطنی کو چیلنج کرنا نہ تو عام شہری کے اختیار میں ہے اور نہ اسکے کہنے سے کوئی تبدیلی آنی ہے ۔ قانونی پیچیدگیاں حل کرنا اداروں کا کام ہے ، عام شہری کا نہیں ۔
اختصار کے ساتھ ، کہنا یہ ہے کہ قوم کے مورال کو زندہ رہنے دیا جائے ۔ اچھائی اور مفاہمت کے ساتھ آگے بڑھا جائے ۔ طنز اور عیب جوئی پر اپنی اپنی توانائیاں ضائع نہ کی جائیں ۔ دانشور قوم کی رہنمائی فرمائیں ۔ قوم کو اسکے حقوق کے ساتھ ، فرائض بھی از بر کروائیں۔ یہ وطن کے بہترین مفاد میں ۔ نظریات بدلنا ، سیاست کی بساط پر عام سی بات ہے ۔ جو کل دشمن تھے ، ْآج دوست بن سکتے ہیں اور جو آج دوست ہیں کل کسی اور سے بغل گیر ہو رہے ہونگے ۔ عام شہری کو اس پر نہ فریفتہ ہونا درست ہے اور نہ بد ظن ہونے سے بات بنے گی ۔ خدا را ایک قوم بن کر سفر کا آغاز کریں ۔
آزاد ھاشمی
٦ اگست ٢٠١٨
Wednesday, 8 August 2018
قوم کا مورال اور عوام کی ذمہ داری
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment