Sunday, 5 August 2018

آپ سے گذارش ہے

" آپ سے گذارش ہے "
بہت اچھا اچھا لکھنے والے لوگ ، جن کو اللہ نے علم بھی دیا ، الفاظ کی ادائیگی کا ہنر بھی عطا کیا ۔ جو تحریر کے جادو سے ذہن بدلنے پر پوری طرح سے قابو رکھتے ہیں ۔ ان میں نوجوان بھی ہیں ، مذہبی عالم فاضل بھی ، عمر رسیدہ بزرگ بھی اور مجھ جیسے کچھ کم عقل بھی اپنی کج علمی کا اظہار کرتے رہتے ہیں ۔ مجھ جیسے جو ریٹائر زندگی کی حد پہ ہیں ،  گھر میں کوئی  سنتا نہیں تو سوشل میڈیا پہ بیٹھے دل کا بھڑاس نکالتے رہتے ہیں ۔ کوئی تعریف کر دے تو دن اچھا گذر جاتا ہے کوئی تنقید کر دے تو دو تین دن غصہ ہی ختم نہیں ہوتا ۔ گذارش یہ تھی کہ سیاست کے دنوں میں سب جھوٹ سچ لکھا ۔ کوئی خبر ملی ، بن سوچے آگے بڑھا دی۔ تبصرے کرتے وقت اپنے اپنے لیڈر کی مدح سرائی بھی کی اور مخالف پر وہ عیب بھی تھونپ دئیے ، جو اس میں نہیں تھی ۔ کئی باتیں ایسی لکھیں ، جیسے ہماری آنکھوں کے سامنے ہوئیں ۔ سب ہوا ، مگر اب صرف وہ ہونا چاہئیے ، جو ہم سب پر فرض ہے ۔ ہم سب پر فرض ہے کہ ملک کا مفاد دیکھ کر بات کریں ۔ اپنے علم اور قلم کی باگ ، اصلاح کی طرف موڑ دیں ۔ شاید کسی ایک پاکستانی بھائی کے دل میں سویا ہوا " جذبہ حب الوطنی " جاگ جائے ۔ شاید کوئی وطن کیلئے جنم لیتی نفرت سے محبت کیطرف پلٹ آئے ۔ سوشل میڈیا پر اخلاق سے گری ہوئی تحقیق پر وقت ضائع نہ کیا جائے ۔ بزرگ لکھاریوں کا فرض ہے ، زندگی میں جو بھی لکھتے رہے ، اس سے ہٹ کر اصلاحی موضوعات پر لکھنا شروع کریں ۔ کہ انکے جانے کے بعد انکی باتیں "صدقہ جاریہ " بن جائیں ۔ آنے والی نسلوں کیلئے روشنی چھوڑ جائیں ۔ گذارش تھی کہ اپنی اگلی منزل کو آسان کر لیں ۔ سیاست پیسہ تو دیتی ہے ، مگر عمل کی زندگی سے دور کر دیتی ہے ۔ پیسہ کبھی وفا نہیں کرتا مگر عمل ساری منزلیں آسان کر دیتا ہے ۔
آزاد ھاشمی
٥ اگست ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment