" فوج کو سرٹیفیکیٹ "
اللہ سبحانہ تعالیٰ کی شان ہے کہ جسے رسوائی دینا چاہتا ہے ، اسی کے کندھے پر رسوائی کا ڈھول رکھ دیتا ہے اور وہ اپنے آپ پر خود کیچڑ اچھالتا پھرتا ہے ۔ خود اپنے عیب کھولتا ہے اور تحقیر کا باعث بن جاتا ہے۔ اور جسے عزت دیتا ہے ، لوگوں کے دلوں میں احترام ڈال دیتا ہے ۔ ہر کوئی احترام سے پیش آنے لگتا ہے ۔ مولانا فضل الرحمنٰ سے نظریات کا اختلاف اپنی جگہ ، مگر میں ذاتی طور پر انکی سیاسی قابلیت کا معترف ہوں ۔ واحد سیاستدان جو چند سیٹوں پر بھی ہمیشہ حکومت کا حصہ رہے ۔ پورے دھڑلے سے اپنی بات منوائی ۔ سیاست کے گرو " آصف زرداری " کو بھی انکی منشاء کے فوائد دینا پڑے ۔ حکمران کوئی بھی آیا ، مولانا ساتھ تھے ۔ ناقدین تو یہاں تک لکھتے ہیں کہ مولانا ہر جانے والے حکمران کی مطلقہ ، موجود حکمران کی منکوحہ اور آنے والے کی منگیتر رہے ۔ یہ کوئی ظرافت نہیں انکی سیاسی قابلیت تھی ۔ اب کیا ہوا ۔ اللہ نے ساری عمر کی ریاضت کو صفر کر ڈالا ۔ اب خود در در پہ جا کر اپنی بپتا سنا رہے ہیں ۔ زندگی بھر کے ساتھی اچکزئی صاحب بھی الگ ہو کر بیٹھ گئے ۔ جو ساتھ کھڑے ہیں ، وہ اکسا رہے ہیں کہ مولانا کا وہ حال کر دیں کہ پوری قوم متنفر ہو جائے ۔ اور یہ بہت کامیابی سے ہو رہا ہے ۔ جو شخص اپنی کرسی نہ بچا سکا ہو ، وہ فوج کو حب الوطنی بھی سکھائے اور فوج کو حدود بھی بتائے تو ایسے شخص کے ذہنی خلجان کا اندازہ کرنا مشکل نہیں رہ جاتا ۔ مجھے تعجب ہوا کہ وہ فوج کو ہدایات دینے لگے ہیں ۔ اتنی عقل تو ہونی چاہئیے تھی کہ کچھ بھی ہو ، ملک کو فوج کی ضرورت ہمیشہ رہے گی ۔ مگر مولانا کے ہونے یا نہ ہونے سے ملک کو کوئی فرق نہیں پڑنے والا ۔ مولانا کے والد محترم بھی کبھی سیاست میں بڑا نام تھے ۔ پھر وہ گئے اور ملک ویسے ہی چلتا رہا ۔
آزاد ھاشمی
٩ اگست ٢٠١٨
Thursday, 9 August 2018
فوج کو سرٹیفیکیٹ
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment