Tuesday, 26 December 2017

شہد کی مکھیاں اور سیاست

" شہد کی مکھیاں اور سیاست "
کبھی کبھی شکست مان لینے میں دانائی بھی ہوتی ہے اور عافیت بھی . خاص کر جب بے شمار لوگ عقل کے دشمن بن کر , شخصیت پرستی کی پٹی آنکھوں پر باندھ چکے ہوں . آپ لاکھ حقائق سامنے رکھو , لاکھ دلائل دو , مجال ہے نظریہ سے ایک ذرہ برابر پسپائی اختیار کریں . بھٹو کے جیالوں کو لاکھ سمجھاو کہ بھائی بھٹو کئی سال پہلے اس جہان سے دوسرے جہان میں چلے گئے , مجال وہ مانیں . نواز شریف کی لیگ کو مسلم لیگ ہی کہیں گے , لاکھ دلائل دو کہ ملک کی اساس انہی لوگوں نے کھوکھلی کر دی ہے , کبھی نہیں مانیں گے , پیلی ٹیکسی , میٹرو بس اور اب اورنج ٹرین انکے تمام گناہوں کا کفارہ ہے . انصاف کے جھنڈے کو بلند کرنے والوں سے کہنے کی ہمت کیلئے بہت بڑا دل چاہئیے کہ جدیدیت ہم سے ہماری اقدار چھین رہی ہے . کوئی نہیں سنتا کوئی نہیں مانتا . حد تو یہ ہے کہ آپ نے ایک جملہ جماعت کیلئے بول دیا , یا سراج الحق کی عملی سیاست پہ کچھ کہہ بیٹھے , تو پھر یہ تہذیبیوں کی فوج شہد کی مکھیوں کیطرح آپ پر ایسے لپکیں گے کہ آپ کو " الامان الحفیظ " کا ورد بھی نہیں بچا پائے گا . آپ کو ایسا اخلاق اور ایسا سیاسی شعور نظر آئے گا کہ توبہ کے سوا چارہ نہیں .
اگر آپ نے غلطی سے بول دیا کہ جمہوریت اسلامی نظام کی نفی ہے , پھر تو جو شامت دانشور لائیں گے . آپ لکھنا , بولنا بھول جائیں گے .
کیا یہ سیاسی تربیت ہے , جہل ہے , ضد ہے یا دانائی .
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment