Thursday, 28 December 2017

عبادت اور بناوٹ

" عبادت اور بناوٹ "
عبادت ،  اللہ کی عبدیت کا عملی اظہار ہے ۔ اللہ نے جس عمل کے کرنے کا حکم دیا ، وہ کرنا عبادت ۔ جس کام سے روکا اس سے رکنا عبادت ۔
اللہ فرماتا ہے کہ تمہاری کسی عبادت میں دکھاوا نہیں ہونا چاہئے ۔ ہر عمل اللہ کی رضا کے حصول کیلئے ہو ، بندوں کی خوشنودی یا اپنے زہد و ریاضت کا پرچار نہیں ہو ۔
لازم ہے کہ ہم عبادت کی روح ، مقصد اور فلسفہ کو پیش نظر رکھیں ۔ ہم نے بہت سارے احکامات ربی کو ثانوی حیثیت دے رکھی ہے اور بہت سارے احکامات کے تکرار کو بھی فرائض بنا لیا ہے ۔ جبکہ وہ احکامات ایک بار کی تاکید کے زمرے میں آتے ہیں ۔ حج اور قربانی مشروط ہے ، صاحب استطاعت ہونے سے ۔ اور فرض ہے زندگی میں ایک بار ۔ مضائقہ نہیں کہ اسے بار بار کیا جائے  اگر وسائل اجازت دیتے ہیں ۔ بار بار کرنا نوافل ہیں ، نوافل کی کوئی حد اور قید نہیں ۔
زکوٰة ایسا فرض ہے ، جو ہر سال ، ہر مال پر ہے ۔ جسے ہم پورے وسائل کے باوجود زندگی میں ایک بار بھی ادا نہیں کرتے ، اور کرتے ہیں تو کبھی پوری شرائط پر نہیں کرتے ۔
اسلام کی معیشت کا یہ رکن ، اگر اسطرح ادا کر دیا جائے ۔ طرح رب کا حکم ہے تو شاید قربانی کا گوشت لینے والوں کو تلاش کرنا پڑے ۔ حج سے ملنے والا ثواب ، قربانی سے ملنے والا ثواب مسلم ہے ۔ کوئی دوسری رائے نہیں ۔
میری ناقص معلومات کے مطابق اللہ کے حبیب نے زندگی میں صرف ایک بار حج کیا اور ایک ہی بار قربانی کا فریضہ انجام دیا ۔ یہی روایت صحابہ کے ساتھ جاری رہی ۔ مگر کوئی تاریخ ایسا ایک حوالہ نہیں دے سکتی کہ ان عظیم ہستیوں نے کبھی زکواة کا ایک درہم بھی روکا ہو ۔
علماء کرام اور مذہبی مفکرین ، اگر زکوٰة کے حکم کی اہمیت کو بھی اسی شدومد سے بیان کریں ، جس انہماک سے  قربانی کے فضائل بیان کئے جاتے ہیں اور ہر شخص کو ترغیب کا ہر ہنر استعمال کرتے ہیں ۔ تو مسلمان معیشت کی جس پستی میں گھر چکے ہیں ، اس میں کبھی نہ گرتے ۔
قربانی کریں ، ریا اور دکھاوا کئے بغیر ۔ اسکے ساتھ زکوٰة کا بھی اہتمام کیا جائے تو نہایت مناسب پیش رفت ہو گی ۔
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment