" سادگی "
سادگی سمجھنے اور سیکھنے کیلئے کائنات کے سرور کی حیات طیبہ سے اچھی کوئی دوسری مثال نہیں . آپ صل اللہ علیہ وسلم نے ساری زندگی غربت میں گذاری اور غربت کو پسند فرمایا . جو ملا راہ خدا میں بانٹ دیا . یہی سادگی آپ کے نقش قدم پر چل کر اصحاب کبار نے پسند کی . سادگی دیکھنا ہو تو آل رسول صل اللہ علیہ وسلم کی پاک زندگیوں میں دیکھی جا سکتی ہے .
گھر میں خورد و نوش کے برتن بھی صرف اتنے کہ ضرورت پوری ہوسکے . کھجور کے پتوں کی چٹائیاں , جو کی روٹی , ہاتھ سے آٹا پیسنے والی چکی . گویا زندگی کی ضروریات اتنی محدود کہ کسی مفلوک الحال کو شکوہ تک نہ ہو سکا . امیر المومنین ہو کر بھی صرف اتنی اجرت کہ نان جویں اور تن ڈھانپنے کی ضرورت پوری ہو جائے .
آج کا سادہ لوح مبلغ , ایسی سواری کہ امراء بھی رشک کریں . گداز بستر , شدت کی گرمی میں یخ بستہ گھر , خورد و نوش میں بڑے بڑے دستر خوان .
اسمبلیوں میں بیٹھ کر قومی خدمت کے نام پر کروڑوں کی مراعات . پھر بھی سادگی کا درس .
یکجہتی کی تعلیم کو سیاست کے نام پر نفاق میں بدل ڈالا , پھر بھی سنت کے درس .
کیا یہ بھولپن ہے یا منافقت . کیا یہ سادگی ہے .
جب اللہ کی ہر نعمت کو مستحقین میں بانٹ دیا جائے تو دولت کا ارتکاز ممکن ہی نہیں . شاہانہ زندگی آ ہی نہیں سکتی . معاشرہ غریب رہ ہی نہیں سکتا . بھیک مانگنے والے نظر ہی نہیں آئیں گے .
سیاست پہ خرچ کرنے والے چندے , الیکشن کی فضولیات پر اربوں روپے کا ضیاع , اگر غربت کے خاتمے کے جہاد پر لگا دیا جائے تو ہم معیشت کی بہتریں سطع پر آ جائیں گے .
کیا یہ سچ نہیں کہ ہم سادگی کو سمجھ ہی نہیں سکے .
ہمیں جہاد سمجھ ہی نہیں آیا .
ہم نے خدمت کے جذبے کو گڈ مڈ کر ڈالا ہے .
یہ ہے سادگی جو ہم نے اختیار کر لی .یہ سادگی نہیں حماقت ہے .
ہم مثال دیتے ہیں کہ فلاں ملک کا وزیر اعظم سائیکل پہ دفتر آتا ہے , پبلک ٹرانسپورٹ پہ سفر کرتا ہے , امریکہ کے صدر کا اپنا گھر نہیں وغیرہ وغیرہ ...
اس سے کہیں بہتر مثالیں تو ہمارے اجداد کی ہیں . ہمارے خلفاء کی ہیں . سوال یہ ہے وہ سب ہم کو کیوں یاد نہیں آتیں .
شاید ہماری سادگی وجہ ہے کہ ہم بھلائی کی راہ چھوٰڑ کر یہود کی ڈگر پر چل رہے ہیں . رسوا ہیں , خوار ہیں اور اسی راہ پر چلنے پر بضد بھی .
ازاد ھاشمی
Tuesday, 26 December 2017
سادگی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment