Thursday, 28 December 2017

پنڈ دے منڈے تے شہری بابو

" پنڈ دے منڈے تے شہری بابو "
تعلیم وہ حق ہے جو ہر کسی کا مساوی ہے . کوئی بھی حکومت جو ٹیکس لیتی ہے , اسکا پہلا استعمال عوام کے بنیادی حقوق کا یکساں اہتمام ہوتا ہے . جس میں صحت اول اور تعلیم دوم ہوتی ہے . مگر ہمارے وطن میں ٹیکس کا استعمال , حکمرانی کی عیاشیاں اول اور اقرباء نوازی دوم , انتخابات کی مہم کا پروپیگنڈہ سوم ہے . صحت کیلئے علاج معالجہ جیب کی استطاعت پہ منحصر ہے . حکمرانوں کی ذمہ داری نہیں  سمجھی جاتی . حکومتی اہلکاروں کو ٹیکس کی رقوم سے کسی بھی حد تک اپنے علاج معالجے کیلئے خرچ کرنے کی اجازت ہے . تعلیم بھی درجہ بندی کا شکار ہے . بڑے بڑے تعلیمی ادارے انہی سیاستدانوں کی ملکیت ہیں اور جی بھر کے لوٹ مار جاری ہے . غریب کا بچہ آج بھی کسی درخت کے سائے میں بچھے ٹاٹ پر بیٹھا , الف انار اور بے بکری ہی پڑھ رہا ہے . یہاں سے وہ آگے بڑھے گا تو پنڈ دا منڈا بن کے کسی کالج کی پچھلی سیٹ پہ جا بیٹھے گا . ھاتھ میں ڈگری لے بھی لی تو کلرک , سپاہی یا کسی دیہاتی اسکول کا ماسٹر بن جائیگا .
یہ چلن کل بھی جاری تھا , آج بھی جاری ہے . سوچنا یہ ہے کہ ملک کی اکثریت کے ساتھ یہ نا انصافی کیوں اور کب تک . .  سیاسی لوگ , دانشور , عوام کی محبت سے سرشار سماج سیوا والے , بنیادی حقوق کا واویلا کرنے والے کب سوچیں گے . کہ پنڈ دے منڈے بھی شہری بابو کیوں نہیں مانے جاتے . پینڈو کو کب تک پینڈو رہنا ہو گا . وہ کب اعلی عہدوں پر بیٹھے گا . آج جو چند پینڈو اعلی عہدوں پر براجمان ہیں , وہ کوٹے کے نام پر انہی چوہدریوں , وڈیروں اور سیاسی پنڈتوں کی اولاد ہیں . پنڈ کی مائی برکتے تو آج بھی بیٹے کو کلرک دیکھ کر پھولی نہیں سماتی .
کیا یہ حق خود بخود ملے گا . کبھی نہیں . شعور دینا ہو گا . عوام کو بتانا ہو گا کہ تمہارا دیا ہوا ٹیکس تمہاری ضروریات کو پورا کرنے کی ضمانت ہے . یہ میری بھی ذمہ داری ہے اور آپ کی بھی .
ووٹ دینے سے پہلے اپنے حق کی بات کرو گے تو حق کیطرف پیش رفت ہو گی . گلیاں پختہ کروانے کے تقاضے  کرتے رہو گے تو کبھی حق نہیں ملے گا .
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment