Tuesday, 26 December 2017

اپنی فصل جلا ڈالی

" اپنی فصل جلا ڈالی "
یہ اکہتر کی جنگ کے دنوں کی بات ہے . ہماری پوزیشن " جامن پور " پر تھی . وہاں سے پاکستانی فوج بھارت کے علاقے میں چھ کلومیٹر اندر داخل ہو چکی تھیں . جس ہندوستانی گاوں میں ہم داخل ہوئے اسکا نام " چھینا بیدی " تھا . دسمبر کا مہینہ عام طور پر پنجاب میں انتہائی خنک ہوتا ہے . جیسے ہی ہم اپنے علاقے سے بھارتی علاقے میں داخل ہوئے , جو سب سے واضع فرق نظر آیا وہ فصلوں کا تھا . ایک جیسی زمین مگر بھارتی علاقے کی فصلیں ہم سے کئی گنا بہتر تھیں . چھینا بیدی میں تمام تر زراعت کے اوزار روایتی تھے . پورے گاوں میں ایک ٹریکٹر تھا . نہایت صحت مند بھینسیں اور گھوڑے تھے . جو صرف چند تھے , باقی شاید وہاں سے منتقل کر لئے گئے تھے .
حیرانی ہوئی کہ ہم بھارتی کاشتکاروں سے کہیں پیچھے ہیں . سمجھ نہیں آئی کہ اسکی کیا وجہ ہے . اسوقت میں یہی سمجھا کہ ہم بھارتی کسانوں سے کم محنتی ہیں .
آج ایک بوڑھے پاکستانی کسان کو میڈیا پر اپنے ہاتھوں سے اپنی کماد کی فصل کو جلاتے دیکھا . دکھ بھی ہوا اور وجہ بھی سمجھ آگئی . کہ ہماری پالیسیوں نے کسان کو دل برداشتہ کر دیا ہے . ان بد بخت سیاستدانوں نے ملک کے اس طبقے کو مفلوج کردیا , جس پر  قومی معیشت کا انحصار ہوا کرتا ہے . اس کسان کے جذبات کا اندازہ کون کر سکتا ہے جس نے اپنے ہاتھوں سے اپنی محنت کے  ثمر کو آگ لگا دی . اور اپنی آنکھوں سے جلتا دیکھتا رہا . کیا ایسے پالیسی ساز مجرم نہیں , جنہوں نے مایوسی پھیلانے کی انتہا کردی . اگر ان سب پر لعنت بھیجی جائے تو کیا برا ہے . تمام لیڈر , میڈیا اور دانشور اگر خاموش رہتے ہیں تو سب غدار ہیں . اور غدار قومیں تباہ ہی ہوا کرتی ہیں . میرا اور آپکا فرض ہے کہ اس خبر کو وائرل کریں . جتنا ہو سکے واویلا کریں . ہو سکتا ہے کوئی بہادر سامنے آ کر اس مایوسی کیلئے تحریک چلائے . 
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment