" یہ ہماری تہذیب نہیں "
سیاسی مخالفت ، نظریات کی جنگ ، اچھائی کی تلاش میں برائی سے جھگڑا ، با شعور لوگوں کی روایت رہی ہے ۔ مگر سب تہذیب کے دائرے میں ۔ کسی پر جوتا اچھال دینا ، کسی کے چہرے پر کالک مل دینا یا کسی کی کردار کشی میں اسکی عزت پامال کرنے کے حربے کرنا ، کسی کے عیب تلاش کرنا اور کردار کی کمزوریوں کو اشتہار بنا دینا ۔ کسی بھی معاشرے کی بدترین اخلاقی پستی کا ثبوت ہے ۔ ہمارے حکمرانوں نے قوم اور وطن کے ساتھ جو بھی کیا ، وہ تاج پہنانے کے لائق تو نہیں ۔ نفرت اور سرزنش کرنے کے لائق ہے ۔ مگر اسکی ایک حد ہے ۔ اور اسکا بہترین حل یہ ہے کہ ان سے تعلق توڑ دیا جائے ۔ انکو عام شہری کی حیثیت میں لے آیا جائے ۔ انکی راہ روکنے کی وہ جدوجہد کی جائے جو اخلاق اور تہذیب کے دائرے میں ہو ۔ جب اللہ کسی کے مقدر میں رسوائی لکھ دیتا ، تو وہ خود اپنی رسوائی کے سامان تلاش کرتا ہے ۔ اپنے ہاتھوں سے ذلت کی خاک اپنے سر پہ ڈالتا ہے ۔ مجھے اور آپ کو اسکا اہتمام کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی ۔
یہ حکمران ، جن کو آج ہمارے جذباتی لوگ جوتے مارنے پر اتر آئے ہیں ۔ انکو تیس پینتیس سال سر پہ کس نے بٹھائے رکھا ؟ یہ جو بھی کرتے رہے ، کیا یہ اکیلے تھے ؟ کیا ہمارے تمام سیاستدان انکے ساتھ نہیں تھے ؟ وطن کے تحفظ کے ذمہ دار انکے ساتھ نہیں تھے ؟ کیا اس نظام کی برائی نہیں تھی ، جس کو ہم نے ایمان بنا لیا ؟ کیا مذہب کے مبلغین انکے ساتھ نہیں دیتے رہے ؟
آج انکو جوتے مارنے سے اپنی غلطیوں کا حساب تو نہیں چکایا جائے گا ۔ مثبت سوچ کے ساتھ اپنی راہ کا تعین کرنا ہو گا ۔ وگرنہ سیاہی پھینک دینا ، جوتا لہرا دینا ، کسی کی بہو بیٹی پر آوازے کس دینا اور کردار کشی کے حربے تلاش کرتے رہنا ، فساد کی راہ کھول دے گا ۔
ہم مسلمان ، جس مذہب کو مانتے ہیں ، اس مذہب کی یہ تعلیم نہیں ہے ۔
آزاد ھاشمی
Friday, 16 March 2018
یہ ہماری تہذیب نہیں
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment