" سفارتی معرکے "
سفارتی میدان ، اسوقت کسی ملک کی پلاننگ کا اہم ترین رخ ہے ۔ دانشمندی کا تقاضا ہے کہ اپنی بات کو دلیل سے منوایا جائے ۔ دلیل کیلئے ، علم ، تجربہ اور قوت فیصلہ بہت کلیدی مرحلے ہیں ۔ بھٹو نے اس میدان میں قابل قدر خدمات دیں اور پوری دنیا کا سفارتی میدان اپنے حق میں کر لیا ۔ مگر اس کے ساتھیوں نے ، پارٹی کے موقع پرست لوگوں نے ، سفارتی شعبے میں معیار کو قطعی نظر انداز کر دیا ۔ اور اسوقت کی لگائی ہوئی پنیری پودے بن کر سامنے آئی تو سارا کیا کرایا غارت ہوا ۔ پھر یہ شعبہ پوری طرح سیاسی ہو گیا ۔ جسے نوازنے کی ضرورت پڑی ، سفیر نامزد کیا اور ملک کی نمائندگی کیلئے بھیج دیا ۔ اس رحجان نے کیا گل کھلائے کہ ہم ہر جگہ پر غیر موثر سفارت کاری کا شکار ہوتے گئے ۔ حکمران جاہل تھے ، انہوں نے اس کی اہمیت کو سرے سے کنویں میں ڈال دیا ۔ ہمارے ہاتھ پوری تجارتی منڈیاں بھی نکل گئیں اور ہمارے دوست بھی ہم سے نالاں ہوگئے ۔ ستم ظریفی کی انتہا کہ ہمارے سفیر وطن کے مفادات کے خلاف متحرک رہے ، دو چار دن نہیں سالوں سال ، ملک کی نمائندگی کرنے والا سفیر ملک کے اہم راز امریکہ کی میز پر رکھتا ہے ۔ سفارتی آداب سے انحراف کرتے ہوئے آج امریکہ اسکی پناہ گاہ ہے ۔ اکثر سفارت خانوں پر فوجی ریٹائرڈ جنرل ، تسلسل سے بھیجے جا رہے ہیں ۔ یہ تو معلوم نہیں کہ اس سفارتی پلان کے پیچھے کونسی اہلیت کو سامنے رکھا جاتا ہے ۔ مگر یہ حقیقت ہے ، جن جن ممالک میں بھی فوجی سفیر ہوتے ہیں ، وہاں کی کارکردگی تسلی بخش نہیں ہوتی ۔ اگر یہ کہا جائے کہ سفارتی شعبہ جتنا اہم ہے ، اس پر اس سے کہیں زیادہ غفلت برتی جا رہی ہے ۔
آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ اسلامی ممالک میں بھی بھارت کی سفارتکاری ہم پر سبقت لے گئی ہے ۔ اس میں ایک اہم پہلو " بیک ڈور ڈپلومیسی " کا بھی ہے ۔ ہم پاکستانی جہاں جہاں بھی ہیں ، موثر کمیونٹی نہیں ہیں ۔ ہم ملکی مفادات پر نہ سوچتے ہیں اور نہ ہی کسی مثبت پیش رفت کی تحریک کرتے ہیں ۔ جبکہ سفارتی کارکردگی کو فعال کرنے میں کمیونٹی کا کردار بہت اہم ہوا کرتا ہے ۔
آزاد ھاشمی
Saturday, 17 March 2018
سفارتی معرکے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment