Sunday, 18 March 2018

میرا جسم ، میری مرضی

" میرا جسم ، میری مرضی "
چند آزاد خیال مسلم زادیاں ، ننگے سر اعلان کر رہی ہیں ۔
" میرا جسم ، میری مرضی "
" چادر اور چار دیواری گلی سڑی لاش کو مبارک "
افسوس اور دکھ کی یہ بات ہے ۔ کہ وہ خواتین اس بےباکی سے بازار میں آ کھڑی ہوئی ہیں ، جن کے باپ ، مائیں ، بھائی اور دیگر رشتہ دار کسی نہ کسی طرح اسلام کے ساتھ تعلق باندھے بیٹھے ہیں ۔ اور کچھ نہیں تو اسلامی شناخت کے طور پر نام مسلمانوں والے رکھے بیٹھے ہیں ۔ دکھ یہ ہے کہ اس طرح تو جسم فروش عورت بھی سر بازار اعلان کرتی دکھائی نہیں دیتیں ۔ انکی بھی کچھ حدود ہوتی ہیں ۔ اس سے کس کو انکار ہے کہ ہر عورت کا جسم اسکا اپنا ہوتا ہے ۔ مگر اس جسم کا استعمال معاشرہ بگاڑنے کیلئے کرنے پر اعتراض کا بھی حق ہر کسی کو ہے اور مہذب معاشرے میں اسے روکنا بھی اولین فرض ہے ۔  یہ کسی بھی عورت کو حق نہیں کہ وہ معاشرے کی روایت سے ہٹ کر بےباق ہو جائے ۔ کسی عورت کو حق نہیں کہ وہ دوسری عورتوں کو برائی کیطرف راغب کرنے میں کلی آزاد ہو جائے ۔ ان خواتین کو نہیں بھولنا چاہئیے کہ انکا جسم انکے شوہروں کی امانت ہوتا ہے ۔  بازار کی شہوت زدہ کتوں کیلئے نہیں ۔
چادر اور چار دیواری تقدس کی علامت ہے ، اسی کو زیب دیتی ہے جو اس کے قابل ہے ۔ ہیرا سڑک پر نہیں رکھا جاتا اور نہ راہ میں پھینکا جاتا ہے ۔ ہیرے کی حفاظت کرنا لازم ہوتا ہے ، پتھر اور کنکر راستوں میں بکھرے ہوتے ہیں ۔ جس کا بھی دل چاہے پاوں رکھ کر گذر جائے ۔ یہ تو عورت کی شان ہے کہ وہ ہیرے کی طرح رہے ، کنکر کی طرح نہیں ۔ پھل صاف ہو تو ڈھانپ کر رکھا جاتا ، کہ مکھی نہ بیٹھ جائے ، سڑ جائے تو کچرے میں ڈال دیا جاتا ہے ، مکھی بیٹھے کسی کو فکر نہیں ہوتی ۔ چادر اور چار دیواری سڑی ہوئی عورت اور متعفن ذہن کیلئے ہوتی ہی نہیں ۔  پاک جسموں کیلئے ہوتی ہے ۔
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment