Tuesday, 20 March 2018

گاوں کی گوری

" گاوں کی گوری "
جو لوگ دیہات سے تعلق رکھتے ہیں ، وہ اچھی طرح سے واقف ہیں کہ جو سادگی اور کردار کی خوبصورتی دیہاتوں میں ہوا کرتی تھی ۔ وہ شہر میں نہیں تھی ۔ صاف اور شفاف چہرے اسی طرح اجلے تھے ، جسطرح کردار ۔ وقت نے گاوں کی اس گوری کو بھی چہرے کے اصل حسن کو ڈھانپنے کی عادت ڈال دی ۔ شرمانے کے انداز میں بھی بناوٹ آ گئی ۔ خاموش محبت کا انداز بھی بیباک ہو گیا ۔ گویا گاوں کی " پینو"بھی پروین میں بدل گئی  ۔ اتنے انقلاب کے باوجود ، کھیتوں کی پگڈنڈیوں پر سے گذر کر سر پہ ناشتے کی " چھابی " اور ہاتھ میں لسی کی " کمنڈلی " لیکر جانے والی سگھڑ بیوی کی محبت کا جواب ، شہر کی کسی حسینہ کے پاس نہیں ۔ وہ چند لمحے جب اسکا شوہر ، کھیت کے کنارے ناشتہ کرتا ہے اور وہ اسے دیکھ دیکھ کر قربان ہوتی جاتی ہے ۔ وہ شاید ہی کسی شہری بابو کا مقدر ہو ۔ نہ کوئی سوال ، نہ کوئی فرمائش ، نہ قسمت کا گلہ ، نہ مقدر کا رونا ، صرف رفیق سفر کی راحت کی خواہش ، اس گوری کی آرزو رہتی ہے ۔ اسی لئے جیتی ہے اور اسی لئے ہر دکھ اور تکلیف سے لڑ جاتی ہے ۔ قدرت کا بخشا ہوا حسن ، کردار کی مہکتی خوشبو اور قربانی کا بے لوث جذبہ اسکی ساری متاع عزیز ہے ۔ 
گاوں کی یہ گوری ، عورت کی عظمت کا حقیقی حسن ہے ۔  اور یہ حسن آج بھی موجود ہے ۔
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment