" جرم اور مجرم "
یہ جانے بغیر کہ جرم کو روکنا مقصود ہے یا مجرم کو سزا دینا عدل ہے ؟ عدل کا تعین ممکن ہی نہیں ۔ جرم کی نشاندھی اول ہے اور مجرم کی گرفت ثانوی ۔ جب جرم کی نوعیت طے کر لی جائے تو اگلا قدم مجرم کی گرفت اور اس پر سزا کا اطلاق رہ جاتا ہے ۔ یہ تینوں مرحلے من و عن طے ہو جائیں تو عدل کہا جائے گا ۔ پھر یہ تعین کہ جرم کی اس تشریح کے تحت کون کون مجرم ہے ، سب کے ساتھ ایک جیسا رویہ اختیار کرنا عدل کہلائے گا ۔ کیونکہ مقصود جرم کا خاتمہ ہے ۔ ہر جرم چھوت کی بیماری کیطرح ہے کہ اگر اس کو نہ روکا جائے اور مناسب علاج نہ ہو تو بیماری نہیں رکے گی ۔ کسی ایک مریض کا علاج کافی نہیں ہو گا ۔ ہمارے وطن کا المیہ یہ ہے کہ ہمارے وہ لوگ جرم کی اعانت کرتے ہیں ، جن کی ذمہ داری جرم کو روکنا ہے ۔ اور وہ لوگ جرم کرتے ہیں جو اقتدار کی کرسی پر براجمان ہوتے ہیں ۔ رشوت ایک ایسی بیماری ہے ، جو ہر جرم کو پھیلاتی ہے اور یہ بیماری ہر اس اہلکار کو لاحق ہے ، جو عوامی مسائل کے حل پر بیٹھا ہے ۔ ستم ظریفی یہ بھی ہے یہ تمام افسران ، انہی مجرموں کی آشیرباد سے کلیدی عہدوں پر بیٹھے ہیں ۔ کافی عرصے سے ایک رسی ملک کے سابق وزیراعظم کے گلے پر کسی جارہی ہے ۔ خوش آئیند ہے مگر جو جرم اس وزیراعظم نے کیا ہے ، وہ جرم تو بہت سارے دوسرے حکمران بھی کرتے رہے ہیں ۔ بہت سے جج بھی اسی جرم کے مرتکب ہیں ۔ فوج کے کئی جنرل بھی اسی گنگا میں ہاتھ دھو چکے ہیں ۔ ہزاروں سیاستدان ملک کو لوٹ لوٹ کر اربوں کی اثاثے بیرون ملک بنا چکے ہیں ۔ عدل تو تب نظر آئے گا ، جب تمام معاونین جرم کو بھی قطار میں لگا دیا جائے گا ۔ وگرنہ عدل سے بھونڈے مذاق کے علاوہ کچھ بھی نہیں ۔ کون جانے کہ عدل کی شمع کے نیچے کتنا گھمبیر اندھیرا ہے ۔ کون جانے سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ۔ عدل تو برائی کو جڑ سے کاٹنے پر عدل کہلائے گا ۔ چند شاخیں کاٹ بھی دی گئیں تو نئی اگ آئیں گی ۔
ایک حقیقت کو ، جسے ہم اکثر فراموش کرتے ہیں ، ماننا ہوگا کہ عدل میں عوام کا کردار بہت اہم ہوتا ہے ۔ جرم کو محسوس کرنا اور مجرم کو عدل کے تختے تک لے جانے میں عوام کا کردار بہت اہم ہے ۔ یہ ایک ایسی کمزوری ہے جس کیوجہ سے ہم کبھی عدل کا حصول کر ہی نہیں سکے ۔
آزاد ھاشمی
Friday, 16 March 2018
جرم اور مجرم
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment